Friday, March 20, 2026 | 30 رمضان 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • وزیر اعظم مودی نے قطر، فرانس، اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کی بات

وزیر اعظم مودی نے قطر، فرانس، اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کی بات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 20, 2026 IST

وزیر اعظم مودی نے قطر، فرانس، اور دیگر ممالک   کے رہنماؤں کے ساتھ  کی بات
وزیر اعظم نریندر مودی نے قطر۔ فرانس۔ اردن۔عمان اور ملائیشیا کے سرکردہ رہنماؤں سے بات کی اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔  وزیر اعظم نے  مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں تنازعات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پانچ رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فون پر بات چیت میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے قابل مذمت ہیں اور غیر ضروری طور پر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
 
انہوں نے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم  نے کہامیں نے اپنے بھائی قطر کے امیر سے بات کی اور انہیں اور قطر کے لوگوں کو عید کی مبارکباد دی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان قطر کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
 
خیال رہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو سبق سکھا رہا ہے جو امریکہ کی حمایت کرتے ہیں۔ وہیں  سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ ریاض نہ تو ایران کے اس دباؤ کے سامنے جھکے گا اور نہ ہی جھکے گا۔
 
ہندوستان میں گیس کی فراہمی کا بحران :
 
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان میں کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، صرف 'شیوالک' اور 'نندا دیوی' ٹینکرز ہندوستانی بندرگاہوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ چھ سے زیادہ ایل پی جی اور ایل این جی کے جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حالات بہت اچھے نہیں ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندیپ جیسوال نے آج اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور دیگر جہاز رانی کے راستے بند ہونے کی وجہ سے توانائی کی سپلائی بالخصوص ایل پی جی کی سپلائی تشویشناک ہے۔