پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کو آج منگل 10 فروری کو عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔ انہیں یہ ضمانت دھوکہ دہی کے ذریعے مکان کرایے پر لینے اور اس پر قبضہ کرنے کے ایک پرانے کیس میں ملی ہے۔بتا دیں کہ پٹنہ کے گردنی باغ تھانے میں مکان مالک نے پپو یادو کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔ یہ معاملہ 1995 کا ہے (تقریباً 31 سال پرانا)۔اسی کیس میں تین دن پہلے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالتی کاروائی میں تاخیر:
پپو یادو پیر کے روز ہی ضمانت حاصل کر سکتے تھے، لیکن سول کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے باعث پیر کو عدالتی کام کاج روک دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے سماعت ٹل گئی۔ منگل کو دوپہر 2 بجے کے قریب سماعت ہوئی جس میں انہیں ضمانت دے دی گئی۔
صحت اور جیل کی صورتحال:
گرفتاری کے بعد پپو یادو کو طبیعت خراب ہونے پر PMCH منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے علاج کے بعد انہیں بیور جیل کے اسپتال وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ اب ضمانت ملنے کے بعد ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم ان کی باقاعدہ رہائی کے وقت کے بارے میں ابھی صورتحال واضح ہونا باقی ہے۔
گرفتاری پر پپو یادو کا موقف:
گرفتاری سے قبل پپو یادو پٹنہ میں NEET کی ایک طالبہ کی موت کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھا رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔
کیس کیا ہے؟
1995 میں پٹنہ کے گردنی باغ تھانے میں درج کیس میں الزام ہے کہ پپو یادو اور ان کے ساتھیوں نے شکایت کنندہ وینود بہاری لال کے مکان کو دھوکے سے کرایہ پر لیا اور قبضہ کر لیا۔ اس میں دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ دھمکی وغیرہ کے الزامات ہیں۔ طویل عرصے تک پیشی نہ ہونے پر وارنٹ، اشتہار اور ضبطی کے احکامات جاری ہوئے تھے۔