پارلیمنٹ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے درمیان، اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتمادکا نوٹس دے دیا ہے۔اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے رول 94(c) کے تحت یہ نوٹس لوک سبھا کے سیکرٹری جنرل کو جمع کرایا ہے۔اس نوٹس پر کانگریس، سماج وادی پارٹی، اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے تقریباً 118 اراکین کے دستخط ہیں۔
ترنمول کانگریس نے اس تحریک کی حمایت تو کی ہے، لیکن فی الحال دستخط کرنے سے گریز کیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی کا کہنا ہے کہ اسپیکر کو اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے لیے 2 سے 3 دن کا وقت دینا چاہیے۔ اگر وہ اصلاحی اقدامات نہیں کرتے تو پارٹی کو حمایت میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
تحریکِ عدم اعتماد کیوں لائی گئی؟
اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر پر کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں:
1. جانبداری کا الزام: اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر ایوان کی کاروائی کے دوران امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔ وہ اقتدار میں موجود پارٹی کو بولنے کا پورا موقع دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن کی آواز دبائی جا رہی ہے۔
2. راہل گاندھی کو روکنا: الزام لگایا گیا ہے کہ اسپیکر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بولنے سے روک رہے ہیں۔
3. خواتین اراکین پر ریمارکس: اسپیکر پر الزام ہے کہ انہوں نے خواتین اراکینِ پارلیمنٹ پر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔
4. دباؤ کا الزام: کانگریس رہنما پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ اسپیکر پر دباؤ ڈال کر ان سے مخصوص بیانات دلوائے جا رہے ہیں۔