پیپر لیک کے مسئلے پر آج پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث پر پورے ملک کی نظریں مرکوز ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج، سیاسی کشیدگی اور طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس اہم معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آمنے سامنے ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ایوانوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث ہوگی۔
یہ بحث اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ تقریباً 36 دن تک جاری طلبہ کے احتجاج کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے امتحانی نظام میں شفافیت، پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
مودی حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں انفوسس کے شریک بانی نندن نیلیکانی کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس کی تشکیل بھی شامل ہے، جو امتحانی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے تجاویز دے رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پیپر لیک کے واقعات کو روکنے اور امتحانات کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
20 جولائی کو طلبہ اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد وزیر اعظم مودی نے خود انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں مظاہرین سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو "فرینڈس" کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ حکومت ان کے تحفظات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔
گزشتہ روز بھی پارلیمنٹ کا اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ اپوزیشن جماعتوں نے دونوں ایوانوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس طاقت کے استعمال کا معاملہ اٹھایا اور تمام سرکاری کارروائی معطل کرکے اس موضوع پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں کانگریس نے وزیر اعظم سے معافی مانگنے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اس معاملے پر بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔
آج کی بحث کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ حکمراں اتحاد این ڈی اے کی جانب سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ بنسوری سوراج اور رکن پارلیمنٹ سیونی گھوش کو حکومت کا مؤقف پیش کرنے اور اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی قیادت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کریں گے، جبکہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے بحث میں حصہ لیں گے۔
کرن رجیجو کی اپوزیشن سے اپیل
وہیں دوسری مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں پیپر لیک سے متعلق اہم بحث ہوگی اور حکومت چاہتی ہے کہ یہ بحث تعمیری انداز میں مکمل ہو۔ انہوں نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کے مفاد میں پیپر لیک مخالف بل پر بحث کے دوران حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے الزام لگایا کہ کچھ اپوزیشن جماعتیں بحث میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، میں اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امتحانات سے متعلق اس اہم بل پر سنجیدہ بحث میں حصہ لے اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو کامیاب بنانے میں تعاون کرے۔