• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکی فوج میں ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ پروگرام کا اعلان

امریکی فوج میں ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ پروگرام کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 16, 2026 IST

امریکی فوج میں ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ پروگرام کا اعلان
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوجی اہلکاروں کی صحت، جسمانی صلاحیت اور جنگی تیاری کو مزید بہتر بنانے کے مقصد سے ایک نئے ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو اپنی بہترین جسمانی اور ذہنی کارکردگی دکھانے کے لیے صحت مند ہونا ضروری ہے، اور اگر کسی اہلکار میں ہارمون کی کمی پائی جائے تو بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے اس کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
 
وزیر دفاع نے بتایا کہ اس نئے پروگرام کے تحت 30 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام فوجی اہلکاروں کا ہر سال طبی معائنے کے دوران ٹیسٹوسٹیرون لیول بھی چیک کیا جائے گا۔ یہ جانچ معمول کے سالانہ میڈیکل اسکریننگ پروگرام کا حصہ ہوگی۔ دوسری جانب 30 سال سے کم عمر کے فوجیوں کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی نہیں ہوگا، تاہم اگر وہ چاہیں تو رضاکارانہ طور پر اپنی جانچ کرا سکیں گے۔
 
پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی فوج کا ہر رکن ملک کی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنی مکمل جسمانی اور ذہنی استعداد کے ساتھ خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح معمول سے کم ہو تو اس کی بروقت تشخیص نہ صرف اس کی ذاتی صحت بلکہ مجموعی فوجی کارکردگی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
 
اگرچہ وزیر دفاع نے اپنے بیان میں صرف "فوجیوں" کا ذکر کیا، تاہم ویڈیو اور بیان کے انداز سے یہ تاثر سامنے آیا کہ پروگرام بنیادی طور پر مرد فوجی اہلکاروں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی جانچ سے متعلق ہے۔ وزارت دفاع نے ابھی تک اس حوالے سے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ پالیسی تمام اہلکاروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی یا اس کے لیے الگ رہنما اصول جاری کیے جائیں گے۔
 
طبی ماہرین کے مطابق ٹیسٹوسٹیرون مردوں میں ایک اہم ہارمون ہے، جو جسمانی طاقت، عضلات کی نشوونما، توانائی، برداشت، ہڈیوں کی مضبوطی اور ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض افراد میں عمر بڑھنے یا دیگر طبی وجوہات کی بنا پر اس ہارمون کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس کے باعث تھکن، کمزوری، کارکردگی میں کمی اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج کیا جاتا ہے۔
 
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکریننگ پروگرام کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگا کہ علاج اور ہارمون تھراپی صرف مستند طبی تشخیص کی بنیاد پر دی جائے تاکہ غیر ضروری ادویات یا ہارمون کے استعمال سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق ہر کم ٹیسٹوسٹیرون لیول علاج کا متقاضی نہیں ہوتا، اس لیے ہر کیس کا انفرادی طبی جائزہ لینا ضروری ہے۔
 
امریکی وزارت دفاع کی جانب سے اس پروگرام کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس کی تفصیلی گائیڈ لائنز، اسکریننگ کا طریقۂ کار، علاج کے اصول اور اس کے نفاذ سے متعلق مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس پروگرام کو سائنسی اور طبی اصولوں کے مطابق نافذ کیا گیا تو یہ فوجی اہلکاروں کی صحت اور مجموعی آپریشنل تیاری کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔