Friday, August 21, 2026 | 06 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • کینسر کے خلاف نئی امید، ماڈرنا اور مرک ویکسین ٹرائل کامیاب

کینسر کے خلاف نئی امید، ماڈرنا اور مرک ویکسین ٹرائل کامیاب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 20, 2026 IST

کینسر کے خلاف نئی امید، ماڈرنا اور مرک ویکسین ٹرائل کامیاب
ماڈرنا اور مرک نے میلانوما یعنی جلد کے ایک سنگین قسم کے کینسر کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی"mRNA" کینسر ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے مثبت نتائج کا اعلان کیا ہے۔ یہ ویکسین مریض کے اپنے ٹیومر کی جینیاتی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہے۔ اسے مرک کی کینسر کی معروف دوا کی ٹروڈا کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ کمپنیوں کے مطابق اس امتزاج نے کینسر کے دوبارہ ہونے اور جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے میں اہم بہتری دکھائی ہے۔

 ٹرائل میں 1,137 مریض شامل تھے

فیز 3 کے ٹرائل میں 1,137 ایسے مریض شامل کیے گئے جنہیں میلانوما تھا اور جن کا کینسر سرجری کے ذریعے مکمل طور پر نکال دیا گیا تھا۔ مریضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو صرف کی ٹروڈا دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ کو کی ٹروڈا کے ساتھ ذاتی نوعیت کی mRNA ویکسین بھی دی گئی۔ کمپنیوں کے مطابق، ویکسین اور کی ٹروڈا کے امتزاج سے مریضوں میں کینسر کے دوبارہ ظاہر ہونے کے امکانات میں واضح کمی دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے خطرے میں بھی کمی سامنے آئی۔

 ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین کیا ہے؟

عام ویکسین اور اس کینسر ویکسین میں بڑا فرق ہے۔ عام ویکسین کا مقصد کسی انفیکشن سے بچانا ہوتا ہے، جبکہ یہ ویکسین خاص طور پر مریض کے کینسر کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے لیے پہلے مریض کے ٹیومر کا جینیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس تجزیے سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کینسر کے خلیات میں کون سی مخصوص جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر ویکسین تیار کی جاتی ہے، جس کا مقصد مدافعتی نظام کو ان مخصوص کینسر خلیات کو پہچاننے اور ان کے خلاف عمل کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

کی ٹروڈا کے ساتھ کیوں استعمال کی گئی؟

کی ٹروڈا ایک ایسی دوا ہے جو مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ پہلے ہی میلانوما کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ نئے ٹرائل میں محققین نے دیکھا کہ اگر کی ٹروڈا کے ساتھ مریض کے اپنے ٹیومر کے مطابق تیار کی گئی "mRNA "ویکسین بھی دی جائے تو کیا نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی نتائج میں اس امتزاج نے صرف کی ٹروڈا کے مقابلے میں بہتر نتائج دکھائے ہیں۔

 کیا یہ ویکسین کینسر کا مکمل علاج ہے؟

ابھی ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ کمپنیوں نے مثبت نتائج ضرور بتائے ہیں، لیکن مکمل تفصیلی نتائج ابھی جاری نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ تحقیق میں مریضوں کی مجموعی بقا یعنی یہ جانچنا بھی شامل ہے کہ علاج سے مریض کتنے عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ اس لیے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویکسین مریضوں کی مجموعی عمر میں کتنا اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ علاج فی الحال تحقیقاتی مرحلے میں ہے اور اسے عام استعمال کے لیے دستیاب ہونے سے پہلے متعلقہ طبی اور ریگولیٹری اداروں کی منظوری درکار ہوگی۔

 پہلے کے نتائج نے بھی امید پیدا کی تھی

ماڈرنا اور مرک اس ویکسین پر پہلے بھی تحقیق کر چکے ہیں۔ ابتدائی مطالعات میں کی ٹروڈا کے ساتھ اس ذاتی نوعیت کی mRNA تھراپی کے استعمال سے کینسر کے دوبارہ ہونے کے خطرے میں کمی دیکھی گئی تھی۔ نئے فیز 3 ٹرائل کے نتائج نے ان ابتدائی نتائج کو مزید تقویت دی ہے۔ کمپنیوں کے مطابق یہ mRNA پر مبنی ذاتی نوعیت کے کینسر علاج کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ اس قسم کے علاج نے فیز 3 ٹرائل میں کی ٹروڈا کے مقابلے میں اہم بہتری دکھائی ہے۔

دوسرے کینسرز پر بھی تحقیق جاری

ماڈرنا اور مرک اس ٹیکنالوجی کو صرف میلانوما تک محدود نہیں رکھ رہے۔ دونوں کمپنیاں پھیپھڑوں کے کینسر، مثانے کے کینسر اور گردے کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں میں بھی اس علاج کی جانچ کر رہی ہیں۔ اگر مزید تحقیقات اور ریگولیٹری جائزوں میں بھی اس کے فائدے ثابت ہوتے ہیں تو مستقبل میں مریض کے اپنے کینسر کی جینیاتی خصوصیات کے مطابق تیار کیے گئے کینسر کے علاج کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ فی الحال  محققین ان نتائج کو حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں، لیکن طویل مدتی فائدے اور ممکنہ خطرات جاننے کے لیے مزید تحقیق اور مکمل ڈیٹا کا انتظار کرنا ضروری ہے۔