Sunday, August 16, 2026 | 01 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • آرٹیکل 370 کو منسوخ نہ کیا گیا ہوتا تو، بھارت میں انضمام کیلئےپی او کے میں احتجاج ہوتا:عمرعبداللہ

آرٹیکل 370 کو منسوخ نہ کیا گیا ہوتا تو، بھارت میں انضمام کیلئےپی او کے میں احتجاج ہوتا:عمرعبداللہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 15, 2026 IST

آرٹیکل 370 کو منسوخ نہ کیا گیا ہوتا تو، بھارت میں انضمام کیلئےپی او کے میں احتجاج ہوتا:عمرعبداللہ
دفعہ 370 کو منسوخ نہ کیا جاتا تو PoK کے لوگ ہندوستان میں ملتے،عمرعبداللہ
پی او کے میں اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے لوگوں کی حالت پر تشویش
بی جے پی نے عمر کے ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی
 جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی:عمرعبداللہ 
 
  جموں و کشمیرکے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے سنسنی خیز ریمارکس کئے۔ انھوں نے کہاکہ اگر 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم نہ کیا گیا ہوتا اور اس کی ریاستی حیثیت برقرار رکھی جاتی تو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کے لوگ  ہندوستانی جموں وکشمیر کے ساتھ الحاق کرنے  کےلئے احتجاج کرتے۔ انہوں نے سی ایم عمرعبداللہ سری نگر میں یوم آزادی کی تقریبات میں کلیدی تقریرکی۔

 بھارت میں رہنے کا فیصلہ درست تھا

 اس موقع پرعمرعبداللہ نے کہا، "میں پی او کے میں جمہوری حقوق کے لیے لڑنے والے درجنوں لوگوں کی جانوں کے ضیاع اور بہت سے لوگوں کے جیلوں میں بند ہونے سے بہت پریشان ہوں۔  پاکستان مقبوضہ  کشمیر  کی موجودہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ 1947 میں پاکستانی جارحیت کا سامنا کرتے ہوئے ہمارے آباؤ اجداد کا ہندوستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔" انہوں نے اپنے دادا شیخ محمد عبداللہ کو یاد کیا جنہوں نے ہندوستانی فوج کے میدان میں آنے سے پہلے ہی اس جدوجہد کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے اس وقت کے نعرے کو یاد کیا: "حملہ وار خبر دار، ہم کشمیری ہیں تیار ۔
عمر نے کہا کہ وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر مرکزی حکومت نے 2019 میں یہ فیصلہ نہ لیا ہوتا، تو PoK کے لوگ جموں و کشمیر میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے مشتعل ہوتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں اور کشمیر کے لیے اسمبلی کی کچھ نشستیں برقرار رہیں گی۔

 ملک میں وقافیت کو مضبوط کرنے پر زور 

عمرعبداللہ نے ملک میں وفاقیت کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا اور قومی سطح کے امتحانی نظام جیسے کہ NEET اور JEE کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاستوں کی خود مختاری کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے 5 اگست کو 2019 آرٹیکل 370 کو
منسوخ نہ کیا ہوتا تو پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لوگ آج جموں و کشمیر میں شامل ہونے کےلیے احتجاج کر رہے ہوتے۔

شیخ عبداللہ کو دیگرکو کیا یاد 

عمر نے کہا، جب ہم ملک کی آزادی کی بات کرتے ہیں، جب ہم جموں و کشمیر میں 15 اگست کی بات کرتے ہیں، تو یہ موقع جموں و کشمیر کے سب سے بڑے لیڈر، سب سے قابل احترام شخصیت بابائے قوم  شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کیے بغیر ادھورا رہے گا۔عمر نے کہا۔بھارتی فوج کے یہاں پہنچنے سے پہلے جموں و کشمیر کے لوگوں نے قبائلی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جنہوں نے ہار سے بھیجے گئے در اندازوں کا مقابلہ کیا، جنہوں نے بار سے بھیجے گئے فوجیوں کا مقابلہ کیا، حملہ وار  خبر دار ہم کشمیری ہیں تیار کا نعرہ،  شہر ہر گاؤں، ہر گلی اور ہر گھر میں گونجتا رہا۔ بندوقیں اٹھائیں اور گھسنے والوں کا مقابلہ کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں بہادر لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ایسا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے شیخ عبداللہ کے قد کا اعادہ کرنے کی کوشش کی، جن کی میراث خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے، 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد حملے کی زد میں آتی ہے۔

 ایل جی انتظامیہ پر تنقید 

جنوری 2020 میں، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے پانچ ماہ بعد، لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے 13 جولانی کو منانے جانے والے یوم اس وقت تک شہداء اور 5 دسمبر کو منانے جانے والے شیخ محمد عبداللہ کی یوم پیدائش کو عوامی تعطیلات کی فہرست سے ہٹا دیا۔ جموں و کشمیر حکومت 1931 میں مہاراجہ کی حکمرانی کے خلاف مظاہروں کے دوران ڈوگرہ فورسز کے ہاتھوں مارے گئے لوگوں کی یاد میں ہر سال یوم شہداء مناتی تھی۔

80سال پہلے لیا گیا فیصلہ درست 

چیف منسٹر نے کہا کہ جب میں آج سرحد اور ایل او سی کے اس پار کی صورتحال دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈروں نے 80 سال پہلے ہمارے لیے جو فیصلہ لیا تھا وہ درست فیصلہ تھا۔ عمر نے کہا، "وہ لوگ جنہوں نےحملہ وار خبردار کا نعرہ لگایا وہ درست تھے اور انہوں نے جو قربانیاں دیں وہ درست تھیں۔عمر نے کہا۔ آج مجھے نیشنل کانفرنس کے لیڈر ماسٹر عبدالعزیز جیسے لوگ یاد ہیں، جنہیں مظفرآباد پی او کے) میں انہی حملہ آوروں کو روکنے، قبائلیوں کو روکنے ان دراندازوں کو روکنے کے لیے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ 

 پی اوکے، کےلوگ بھارت میں انضمام کیلئے احتجاج کرتے

عمر نے کہا۔ آج جب ہم جموں و کشمیر کے اس حصے کی حالت دیکھتے ہیں ایل او سی کے اس پار ہمیں دکھ ہوتا ہے۔ ہم فکر مند ہوتے ہیں۔ میری طرف سے مجھے لگتا ہے کہ اگر 2019 میں ہمارے حالات نہ بدلے ہوتے تو جموں و کشمیر کے اس حصے کے لوگ آج ہمارے ساتھ دوبارہ شامل ہونے کے لیے احتجاج کر رہے ہوئے۔عمر نے مزید کہا۔جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہمارا ہے۔ ہم ان لوگوں کو اپنا سمجھتے ہیں۔ کوئی اجنبی نہیں ہے، کوئی باہر کا نہیں ہے، آج بھی جموں و کشمیر کے قانون کے مطابق جموں و کشمیر کی اسمبلی میں ان کے لیے نشستیں مخصوص ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن یہ لوگ ان خالی نشستوں کو استعمال کرنے کے قابل ہوں گے۔ 

 وفاقیت اور جمہوریت دو بڑی طاقتیں 

، وزیر اعلیٰ نے کہا۔ وفاقیت اور جمہوریت پر عمر نے کہا کہ ملک کی دو بڑی طاقتیں جمہوریت اور وفاقیت ہیں۔ ہرحال میں جمہوریت کا تحفظ کرنا اور ہر حال میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہماری بڑی ذمہ داری ہے۔"لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ہم اس ملک کی وفاقیت کو بچانے اور مضبوط کرنے کی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

 جو کچھ  ہم سے چھین لیا گیا ہے وہ واپس کیا جائے

جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے بحث کرتے ہوئے عمر نے کہا۔ جب ہم وفاقیت کی بات کرتے ہیں، تو آیئے جو کچھ ہم سے چھین لیا گیا ہے وہ ہمیں واپس کیا جائے تاکہ یہ وفاقیت صرف کشمیر سے اس وفاقیت کو مضبوط کرنا شروع کریں۔ الفاظ میں نہ رہے، اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
ليكن وفاقیت کو مضبوط کرنے کا مطلب صرف ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ دینا نہیں ہے۔ اس ملک کی تمام ریاستوں کو مضبوط کرنا وفاقیت کو دوبارہ جنم دیتا اور اسے برقرار رکھتا ہے۔ وفاق کو نقصان اس وقت ہوتا ہے جب مرکزی ایجنسیاں ریاستوں کے معاملات میں مداخلت شروع کرتی ہیں۔ 

اختیارات ختم ہوتےہیں تو وفا قیت کو نقصان ہوتا ہے

عمر  عبد اللہ نے کہا۔ جب ریاست کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں۔ تو وفاقیت کو نقصان ہوتا ہے۔ جب ریاست کو دیے گئے اختیارات مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں، تو نقصان ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ اکثر سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ عمر نے کہا، جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج اس کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا۔ہمارے وفاقی ڈھانچے کے تحت تعلیم اور صحت دونوں ریاستوں کی ذمہ داری تھی، لیکن امتحان کا انداز بدل دیا گیا۔ NEET اور JEE امتحانات بنانے گئے اور ریاستوں کا میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ دینے کا حق چھین لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ اس کے خلاف احتجاج اور ایجی ٹیشن ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا۔قومی امتحان قومی اداروں کے لیے بالکل جائز ہے، چاہے وہ IIT IIM NIFT یا کوئی اور قومی ادارہ ہو۔ قومی امتحان قومی اداروں کے لیے بالکل درست ہے لیکن ریاست کے ادارے، جو ریاست کے تعلیمی ادارے ہیں، انہیں امتحانات منعقد کرتے اور وہاں داخلہ دینے کا حق دیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے گی کہ حکومت اور عوام کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔

 عمر عبداللہ کے بیان پر بی جےپی کی تنقید 

 عمر عبداللہ کےریمارکس پر بی جےپی شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے  سی ایم عمر عبداللہ  ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمر کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کے بجائے  ،  سیاست کر رہے ہیں ۔ منسوخ شدہ ریاست کی بحالی اور دیگر آئینی ضمانتوں سے ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، عمر نے اس موقع پر واضح کیا کہ وہ اسے نظر انداز کیے بغیر آگے بڑھیں گے۔