• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • افغانستان پر طالبان حکومت کے5سال

افغانستان پر طالبان حکومت کے5سال

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 15, 2026 IST

  افغانستان پر طالبان حکومت کے5سال
طالبان نے 15 اگست 2021 کو دارالحکومت کابل پر قبضہ کر کے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ یہ گروپ اسلامی قانون کی اپنی تشریح کے مطابق حکومت کرتا آ رہا ہے۔ طالبان نے 5 برس قبل کابل پر قبضہ کیا تھا۔ امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کی افغانستان سے واپسی کے دوران طالبان نے تیزی سے پورے ملک پر اپنی دسترس حاصل کر لی۔ سرکاری سیکورٹی فورسز کے کمزور پڑنے کے بعد طالبان بغیر کسی بڑی لڑائی کے کابل میں داخل ہو گئے۔طالبان حکومت   ہفتے کے روز  15اگست کو  آزادی اور ملک میں سیکورٹی کے طور پر منا یا ۔  دالحکومت  کابل میں جگہ جگہ ’اسلامک امارت آف افغانستان‘ کے سفید پرچم لگائے گئے ہیں۔
 
1996 اور2001 کے درمیان اپنے پہلے دور حکومت میں طالبان کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک اس کی پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں ناکامی تھی۔  اب یہ پورے افغانستان کو کنٹرول کرتا ہے اور متعلقہ سیکورٹی اور حفاظت کو برقرار رکھنے کے قابل ہے۔ امریکہ نواز حکومت کے آخری سالوں کے دوران اسلامک اسٹیٹ – خراسان صوبہ (ISKP) کی طرف سے لاحق خطرے کے پیش نظر یہ کافی قابل ذکر ہے۔طالبان نے گروپ کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے اور فی الوقت اسے باغیوں کے کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔
 
 افغان باشندے اپنی جانوں کے خوف کے بغیر ملک کے ان حصوں کا سفر کر سکتے ہیں جو کبھی موثر طور پر ناقابل رسائی تھے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جہاں دارالحکومت کے اندر نقل و حرکت بھی خطرناک تھی، یہ ایک اہم کامیابی ہے۔فی الحال، طالبان کی طاقت پر مضبوط گرفت نظر آتی ہے۔ کوئی قابل عمل فوجی خطرہ نہیں ہے، سیاسی حزب اختلاف بدستور منقسم ہے، اور بین الاقوامی برادری کے پاس افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کی ایک اور کوشش کے لیے نہ بھوک ہے اور نہ ہی وسائل ہیں۔
 
طالبان نے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، لیکن روس ہی واحد ملک ہے، جس نے اس کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس برس جنگ تک ہوئی ہے۔ بین الاقوامی امداد میں کٹوتی کا سامنا کر رہے افغانستان کا انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ 
 
اقوام متحدہ کے مطابق افغان عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ’یو این اے ایم اے‘ کی انسانی حقوق کی ڈائریکٹر فیونا فریزر نے کہا کہ ’’گزشتہ 5 برسوں میں لوگوں کی روزمرہ زندگی اور انسانی حقوق پر انتہائی سخت پابندیاں بڑھ گئی ہیں۔ خواتین پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ انہیں پارکوں سمیت کئی عوامی مقامات پر جانے اور ملازمت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ لڑکیوں کی 12 برس کی عمر کے بعد تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے۔
 
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق اور انسانی بحران بدترین صورت اختیار کر گیا، طالبان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق ختم کیے جا رہے ہیں، خودمختاری سے محروم کیا جا رہا ہے، یونیسکو کے مطابق اس وقت تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان بچوں میں سے تقریباً ہر 10 میں سے ایک شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔