• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں ہر چھ ماہ بعد مسابقتی امتحانات، تمام سرکاری اسامیاں پُر کرنے کا اعلان: ریونت ریڈی

تلنگانہ میں ہر چھ ماہ بعد مسابقتی امتحانات، تمام سرکاری اسامیاں پُر کرنے کا اعلان: ریونت ریڈی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 15, 2026 IST

تلنگانہ میں ہر چھ ماہ بعد مسابقتی امتحانات، تمام سرکاری اسامیاں پُر کرنے کا اعلان: ریونت ریڈی
 
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ریاست کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری محکموں میں موجود ملازمتوں کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ہر چھ ماہ میں مسابقتی امتحانات منعقد کرنے کا مستقل نظام بنایا جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملازمتوں کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحانات کی تیاری پر توجہ دیں، کیونکہ حکومت تمام خالی عہدوں کو پُر کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

 اسمارٹ راشن کارڈز کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز

وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان سنگاریڈی شہر کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اسٹیڈیم میں منعقدہ   پروگرام  سے خطاب  کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مستحق افراد میں اسمارٹ راشن کارڈز کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا۔ ریونت ریڈی نے اپنی حکومت کی جانب سے کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور غریب طبقات کے لیے شروع کیے گئے فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حکومت کا مقصد ریاست کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانا اور ہر طبقے کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

ہر چھ ماہ میں مسابقتی امتحانات

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کی بھرتی ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے، اسی لیے حکومت ہر چھ ماہ میں مسابقتی امتحانات منعقد کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ سرکاری محکموں میں موجود کسی بھی خالی آسامی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ریونت ریڈی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی سال میں تقریباً 70 ہزار ملازمتیں فراہم کی ہیں، جبکہ حالیہ عرصے میں مزید 10 ہزار سرکاری ملازمتوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ افواہوں اور گمراہ کن باتوں پر توجہ نہ دیں اور اپنی توانائی مسابقتی امتحانات کی تیاری میں صرف کریں۔انہوں نے کہا، ’’ملازمتیں فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم کسی بھی خالی آسامی کو نظرانداز نہیں کریں گے۔ آپ مسابقتی امتحانات کی تیاری کریں، تمام امتحانات منعقد کرانے کی ذمہ داری میری ہے۔‘‘

غریبوں کے لیے باریک چاول کی فراہمی

وزیر اعلیٰ نے حکومت کی جانب سے غریب خاندانوں کو باریک چاول فراہم کرنے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ریاست میں کوئی غریب بھوک کا شکار نہ ہو اور کسی کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں غریبوں کو باریک چاول فراہم کرنے کا پروگرام شروع کیا گیا، حالانکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کا منصوبہ اس وقت نافذ نہیں تھا۔ حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے باریک چاول سے ریاست کے تقریباً 3.42 کروڑ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ غریب خاندانوں میں باریک چاول کی تقسیم شروع ہونے کے بعد بازار میں اس کی قیمت میں بھی تقریباً 10 سے 15 روپے کی کمی آئی ہے۔

حکومت کی توجہ زراعت پر

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت زراعت کو بوجھ نہیں بلکہ تہوار بنانے کے مقصد سے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عوامی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد زراعت کے شعبے پر تقریباً 1.70 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 32 ماہ کے دوران کسانوں کی پیداوار خریدنے کے لیے حکومت نے تقریباً 90 ہزار کروڑ روپے ادا کیے، جس سے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 21 ہزار کروڑ روپے کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کرکے 25 لاکھ کسانوں کو قرض کے بوجھ سے نجات دلائی گئی۔ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کی رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک میں سب سے کم قرض رکھنے والے کسانوں میں تلنگانہ کے کسان شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ’’رعیتوبھروسہ‘‘ کے تحت امداد میں اضافہ کرتے ہوئے کسانوں کو مجموعی طور پر 36 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کسانوں کا احترام کرنے اور انہیں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے پر زور

خواتین کے حوالے سے ریونت ریڈی نے کہا کہ ’’اندراّمّا راجیم‘‘ کا تصور ہی خواتین کو بااختیار بنانے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانا اور ریاست میں ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی بنانے کی سمت میں کام کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق خود امدادی گروپوں کو بغیر سود کے تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کی بینک لنکیج فراہم کی گئی ہے۔ خواتین کے لیے آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت پر حکومت نے تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تقریباً 27 لاکھ اسکولی بچوں کے لیے اسکول یونیفارم کی سلائی کا کام بھی خواتین کے خود امدادی گروپوں کو دیا گیا ہے، تاکہ خواتین کو روزگار کے مزید مواقع مل سکیں۔

اندرامّا مکانات میں خواتین کو ترجیح

ریونت ریڈی نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تقریباً 4.5 لاکھ ’’اندراّمّا مکانات‘‘ خواتین کے نام مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 2.5 لاکھ مکانات کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بیوہ اور تنہا خواتین کو پنشن فراہم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ چنیت کاریگروں، تاڑی نکالنے والے مزدوروں اور سکل سیل انیمیا جیسی بیماریوں سے متاثرہ افراد کو پنشن فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اہل افراد سے اپیل کی کہ وہ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواستیں داخل کریں۔

’’نوجوان کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں‘‘

سرکاری ملازمتوں کے معاملے پر حکومت کی پالیسی واضح کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعض عناصر بے روزگار نوجوانوں کو حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ غلط معلومات اور افواہوں کا شکار نہ ہوں۔ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال کے اندر تقریباً 70 ہزار ملازمتیں پُر کی ہیں اور مزید بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد تمام محکموں میں موجود خالی اسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنا ہے۔

سابق حکومت کے قرضوں کا بوجھ

ریونت ریڈی نے ریاست کی موجودہ مالی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سابق حکومت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لیے گئے قرضوں اور مبینہ مالی غلطیوں کا بوجھ موجودہ حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق حکومت ہر سال تقریباً 75 ہزار کروڑ روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہی ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے فلاحی اسکیموں کو دوبارہ منظم کرنے اور عوام تک ان کے فوائد پہنچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت نے قبول کی ہے۔

’’عوام کا اعتماد ہی ہماری طاقت ہے‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت اور دعاؤں کے ساتھ ریاست میں بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ان سے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے گی اور فلاحی و ترقیاتی پروگراموں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یومِ آزادی کے موقع پر سنگاریڈی میں وزیر اعلیٰ کا خطاب جہاں حکومت کی مختلف اسکیموں پر مرکوز رہا، وہیں سرکاری ملازمتوں کی بھرتی کے حوالے سے ہر چھ ماہ میں مسابقتی امتحانات کرانے کا اعلان نوجوانوں کے لیے خاص طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔