Friday, September 11, 2026 | 27 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • قبل از وقت زچگی: وجوہات، خطرات اور بچاؤ پر ماہرِ امراضِ نسواں کی اہم گفتگو

قبل از وقت زچگی: وجوہات، خطرات اور بچاؤ پر ماہرِ امراضِ نسواں کی اہم گفتگو

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 11, 2026 IST

 قبل از وقت زچگی: وجوہات، خطرات اور بچاؤ پر ماہرِ امراضِ نسواں کی اہم گفتگو
حمل کے دوران ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ مکمل مدتِ حمل کے بعد صحت مند حالت میں دنیا میں آئے، لیکن بعض صورتوں میں بچے کی پیدائش مقررہ وقت سے پہلے ہوجاتی ہے۔ قبل از وقت زچگی یا Pre-Term Labour نہ صرف ماں بلکہ نومولود کے لیے بھی کئی طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
 
پروگرام میں Dr. Swathi H V، Consultant Obstetrician & Gynecologist، Laproscopic Surgeon، BirthRight by Rainbow Hospitals,  Hyderabad نے قبل از وقت لیبر کی وجوہات، ممکنہ اثرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔
 
طبی اعتبار سے 37 ہفتوں کی تکمیل سے پہلے بچے کی پیدائش کو قبل از وقت پیدائش کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں اور ہر حاملہ خاتون میں اس کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حمل کے دوران انفیکشن، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، رحم یا سروکس سے متعلق مسائل، جڑواں یا ایک سے زیادہ بچوں کا حمل اور سابقہ حمل میں قبل از وقت پیدائش جیسے عوامل خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ بعض معاملات میں تمام احتیاط کے باوجود بھی قبل از وقت لیبر شروع ہوسکتی ہے۔
 
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں چونکہ جسم کے مختلف اعضاء، خصوصاً پھیپھڑے، مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے، اس لیے انہیں سانس لینے میں دشواری، جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں مشکل اور دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حمل جتنا کم عرصے میں ختم ہوگا، بچے کو طبی نگہداشت کی ضرورت اتنی زیادہ ہوسکتی ہے۔
 
ماہرِ امراضِ نسواں نے حاملہ خواتین کے لیے باقاعدہ antenatal check-ups کی اہمیت پر زور دیا۔ حمل کے دوران بلڈ پریشر، شوگر، انفیکشن اور دیگر ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی سے پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق مناسب غذا، آرام، ضروری ادویات اور مقررہ معائنے بھی حمل کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
اگر حمل کے دوران وقت سے پہلے باقاعدہ دردِ زہ، پیٹ یا کمر میں مسلسل درد، پانی کا اخراج، خون آنا یا پیڑو میں غیر معمولی دباؤ محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات کی صورت میں فوری طور پر ماہرِ امراضِ نسواں سے رابطہ ضروری ہے۔
 
قبل از وقت لیبر ہمیشہ مکمل طور پر روکی نہیں جاسکتی، لیکن بروقت نگرانی اور خطرے کی علامات کو سنجیدگی سے لینے سے ماں اور بچے دونوں کے لیے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ حمل کے دوران خود سے دوا لینے کے بجائے ہر طبی فیصلہ ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
 
 قارئین ڈاکٹر سواتھی ایچ وی ، کنسلٹنٹ ماہرِ امراضِ نسواں و زچگی اور لیپروسکوپک سرجن، برتھ رائٹ رینبو ہاسپٹلز، حیدرآبادکی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔