Friday, September 11, 2026 | 27 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مراد آباد کی مصطفیٰ مسجد کا معاملہ سیاسی تنازع میں تبدیل، اجے رائے کا یوگی حکومت پر حملہ

مراد آباد کی مصطفیٰ مسجد کا معاملہ سیاسی تنازع میں تبدیل، اجے رائے کا یوگی حکومت پر حملہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 11, 2026 IST

مراد آباد کی مصطفیٰ مسجد کا معاملہ سیاسی تنازع میں تبدیل، اجے رائے کا یوگی حکومت پر حملہ
اتر پردیش کے مراد آباد میں تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی (TMU) کی بیرونی دیوار سے متصل واقع مصطفیٰ مسجد کا معاملہ اب سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے مسجد پہنچے، جہاں انہوں نے مسجد کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور معاملے سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت پر بھی سخت تنقید کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اجے رائے نے حکومت کی جانب سے مساجد کے نقشے اور تعمیر سے متعلق دستاویزات طلب کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مساجد کے نقشے مانگ رہی ہے تو وزیر اعلیٰ اپنی سرکاری رہائش گاہ کا نقشہ بھی عوام کے سامنے پیش کریں اور بتائیں کہ اسے باقاعدہ منظوری حاصل ہے یا نہیں۔
 
اجے رائے نے مصطفیٰ مسجد کو تقریباً 40 سال پرانی عمارت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد اس دور کی ہے جب مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) کا وجود بھی نہیں تھا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت کا مقصد لوگوں کو ہراساں کرنا اور مسجد کو منہدم کرنا ہے۔ انہوں نے سہارنپور میں مسجد سے متعلق ہوئی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ کانگریس صدر نے مسجد کے تحفظ کے لیے پارٹی کارکنوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو کانگریس کارکن آدھی رات کو بھی مسجد کی حمایت میں یہاں پہنچیں گے۔
 
اجے رائے نے ہندو مسلم بھائی چارے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سناتن دھرم کے پیروکار بھی مسجد کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق ہندوؤں کو مساجد کے تحفظ اور مسلمانوں کو مندروں کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ سماج میں بھائی چارہ برقرار رہے اور مذہب کے نام پر تفریق یا پولرائزیشن کو بڑھاوا نہ ملے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر گورکھپور میں شمشان گھاٹ کے لیے مختص فنڈز میں مبینہ خرد برد اور بدعنوانی کے بھی الزامات عائد کیے، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
 
کیا ہے مصطفیٰ مسجد کا تنازعہ؟
 
مصطفیٰ مسجد مراد آباد میں تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کی دیوار سے متصل واقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسجد کی عمارت تقریباً 40 سال پرانی ہے۔ مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مسجد کو مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 25 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ اب اس معاملے نے قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی رخ بھی اختیار کر لیا ہے، جہاں کانگریس حکومت کے اقدام پر سوال اٹھا رہی ہے جبکہ مسجد کے قانونی موقف کا فیصلہ متعلقہ کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔