برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے سلسلے میں بھارت پہنچنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم دو طرفہ ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی برقرار ہے اور خطے کی صورتحال عالمی تجارت، توانائی اور سمندری راستوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی اور صدر پزشکیان نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے علاوہ بھارت اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون، تجارت، توانائی اور علاقائی رابطوں جیسے اہم معاملات پر بھی گفتگو کی۔
یہ وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر کے درمیان تقریباً دو ہفتوں کے اندر دوسری ملاقات ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس ملاقات کو سفارتی اور علاقائی اعتبار سے خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے برکس بزنس فورم میں بھارتی ملاحوں کی حفاظت کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات اور اہم سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث ملاحوں کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
دوسری جانب، صدر پزشکیان نے برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سیاسی دباؤ کے لیے معاشی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عالمی معیشت کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت صرف رکن ممالک کی بڑی معیشتوں میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ ممالک اپنی صلاحیتوں کو تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ مالیاتی تعاون میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برکس ممالک کو صرف امکانات پر بات کرنے کے بجائے عملی اور ٹھوس تعاون کی طرف آگے بڑھنا ہوگا۔
مودی اور پزشکیان کی ملاقات مغربی ایشیا کی کشیدگی، توانائی کے تحفظ اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تیل اور سمندری تجارت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں ایران اور بھارت کے درمیان چابہار بندرگاہ، علاقائی تجارت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک اقتصادی تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی تجارت میں نئے مالیاتی طریقوں کے امکانات پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، مودی اور پزشکیان کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سفارت کاری، امن اور اقتصادی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔