Tuesday, February 10, 2026 | 22, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • حمل: خطرات، تشخیص اور جدید علاج

حمل: خطرات، تشخیص اور جدید علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 09, 2026 IST

حمل: خطرات، تشخیص اور جدید علاج
منصف ٹی وی کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج ایک نہایت اہم اور حساس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس کا عنوان تھا 40 سال کے بعد ہائی رسک حمل اور گائناکالوجی کے مسائل: تشخیص اور علاج کے جدید طریقے۔ اس پروگرام میں ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر این۔ ساردھا وانی  نے شرکت کی، اور سادہ اور جامع انداز میں خواتین کو درپیش طبی مسائل پر روشنی ڈالی۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 
ڈاکٹر این۔ ساردھا وانی نے بتایا کہ 40 برس کی عمر کے بعد خواتین میں حمل کو عموماً ہائی رسک پریگنینسی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس عمر میں جسمانی ہارمونز میں تبدیلی، بیضہ دانی کی کارکردگی میں کمی اور پہلے سے موجود بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران ذیابیطس، بلڈ پریشر، تھائرائیڈ کے مسائل، فائبرائیڈز، اینڈومیٹریوسس اور ہارمونل عدم توازن جیسے گائناکالوجی مسائل زیادہ عام ہو جاتے ہیں، جو ماں اور بچے دونوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
 
پروگرام میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ہائی رسک حمل کی بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے۔ جدید میڈیکل ٹیسٹس، الٹراساؤنڈ، بلڈ ٹیسٹ اور باقاعدہ قبل از پیدائش چیک اپ کے ذریعے خطرات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر نے زور دیا کہ 40 سال کے بعد حمل کی خواہش رکھنے والی خواتین کو کنسیپشن سے پہلے مکمل طبی معائنہ کروانا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کو پہلے ہی کنٹرول کیا جا سکے۔
 
علاج اور مینجمنٹ کے حوالے سے ڈاکٹر این۔ ساردھا وانی نے بتایا کہ آج کل جدید طبی سہولیات کی بدولت ہائی رسک پریگنینسی کو کامیابی سے مینیج کیا جا سکتا ہے۔ متوازن غذا، مناسب ادویات، ہارمونل تھراپی، طرزِ زندگی میں بہتری اور باقاعدہ ڈاکٹر سے رابطہ نہایت اہم ہے۔ بعض صورتوں میں خصوصی مانیٹرنگ یا سیزیرین ڈیلیوری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے، جس کا فیصلہ ماں اور بچے کی حالت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
 
پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' کا مقصد عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے، اور آج کا یہ موضوع خصوصاً ان خواتین کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا جو 40 سال کے بعد ماں بننے کا ارادہ رکھتی ہیں یا گائناکالوجی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، درست علاج اور آگاہی کے ذریعے ایک صحت مند ماں اور بچے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔