Wednesday, February 04, 2026 | 16, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • منی پور میں صدر راج ختم، حکومت سازی کی راہ ہموار

منی پور میں صدر راج ختم، حکومت سازی کی راہ ہموار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 04, 2026 IST

منی پور میں صدر راج ختم، حکومت سازی کی راہ ہموار
منی پور میں حکومت سازی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے تشدد زدہ ریاست سے صدارتی راج ہٹا دیا ہے۔ فروری 2025 میں سابق وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کے استعفیٰ اور جاری تشدد کی وجہ سے ریاست میں صدارتی راج نافذ کیا گیا تھا۔دوسری طرف این ڈی اے کے ایم ایل اے ڈل لیڈر وائی کھیم چند سنگھ نے ریاستی گورنر اجے کمار بھلا سے ملاقات کر کے نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔
 
بتا تے چلیں کہ منی پور میں فی الحال بی جے پی کے 37 ایم ایل اے ہیں۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے 32 امیدوار کامیاب ہوئے۔ جے ڈی یو نے چھ سیٹیں جیتیں جن میں سے پانچ بعد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ باقی ممبران اسمبلی میں نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) کے چھ، ناگا پیپلز فرنٹ (این پی ایف) کے پانچ، کانگریس کے پانچ، کوکی پیپلز الائنس سے دو، جے ڈی یو سے ایک، اور تین آزاد ہیں۔
 
پچھلے کچھ مہینوں میں، بی جے پی کی مرکزی قیادت نے اپنے میٹی اور کوکی ایم ایل ایز، اتحادیوں این پی ایف اور این پی پی، اور کچھ آزاد ایم ایل ایز کے ساتھ کئی دور کی میٹنگیں کیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کیا سیاسی صورتحال حکومت بنانے کے لیے سازگار ہے۔ 9 فروری 2025 کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے این بیرن سنگھ کے استعفیٰ کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔ ان کا استعفیٰ میٹی اور کوکی برادریوں کے درمیان مہینوں تک جاری رہنے والے نسلی تشدد کے درمیان آیا۔
 
منی پور میں فروری 2025 سے نافذ تھا صدارتی راج:
 
منی پور میں کوکی اور میتی برادریوں کے درمیان 3 مئی 2023 سے تشدد جاری ہے۔ اس تشدد میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 1,500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔تشدد روکنے میں ناکامی کے دباؤ کی وجہ سے 9 فروری 2025 کو سابق وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد 13 فروری 2025 سے منی پور میں صدارتی راج نافذ تھا۔
 
اب گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ جلد ہی نئی حکومت تشکیل پا سکتی ہے۔ وائی کھیم چند سنگھ کی قیادت میں این ڈی اے کی کوششیں جاری ہیں کہ وہ اکثریت ثابت کر کے حکومت بنائیں۔