کشمیرمیں ایران کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ احتجاجیوں نے امریکہ، اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ کشمیر میں کئی مقامات پر اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں پرامن مظاہرے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر ، پلوامہ اور بڈگام کے کئی شیعہ اکثریتی علاقوں میں مظاہرے دیکھنے میں آئے جب مشتعل افراد نے ایران کے حق میں اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ برفباری کےدرمیان یوٹی لداخ کے کارگل میں بھی احتجاجی مارچ نکالا گیا ۔حکام نے بتایا کہ مظاہرے پرامن رہے۔
برفباری کےدرمیان احتجاج
کارگل، لداخ میں جمعہ کے دن ہزاروں شیعہ شرکاء نے ایرانی اور فلسطینی جھنڈوں کے ساتھ مارچ کیا۔ برفباری کے دوران احتجاج کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کے علامتی تابوت اٹھائے ہوئے، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ یہ مظاہرہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں سے بالکل متصادم ہے، جس میں کارگل کی شیعہ برادری کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے اور مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل پالیسیوں پر شکایات کا اشتراک کیا گیا ہے۔
سپریم لیڈرسید علی خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی
سری نگر میں حسن آباد کے نہرو پارک اور شہر کے گنڈ ہسی بھٹ علاقوں میں ایران اور اس کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔مظاہرین نے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور ایران کے خلاف "بیرونی دباؤ" اور "مداخلت" کی مذمت کی۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ایران اور اس کی قیادت کے حق میں اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے۔اسی طرح کے مظاہرے وسطی کشمیر کے بڈگام کے مین چوک اور جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے گنگو علاقے میں دیکھے گئے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف مظالم
پلوامہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک شیعہ رہنما نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف "مظالم" کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ ایران میں سیکورٹی فورسز اور معصوم لوگوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ہم امریکہ اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے "۔کشمیری عوام امریکہ اور اسرائیل کو بتانا چاہتے ہیں کہ ’’ہم زندہ ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کی حمایت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں‘‘۔
محبوبہ مفتی کی ایران کےباشندوں سے اپیل
پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز ایران کے عوام پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی "چاہتوں" کو شکست دینے کے لیے متحد ہو جائیں، اور اسلامی جمہوریہ کی قیادت سے وہاں مظاہرین کی شکایات کو دور کرنے کی اپیل بھی کی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، سابق ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی نے کہا کہ امریکہ کو دوسرے ممالک میں ان کے وسائل پر نظر رکھ کر مداخلت کرنے کی عادت ہے۔"امریکہ کو یہ کہنے کی عادت ہے کہ وہ وہاں کی قیادتیں لے کر دوسرے ممالک میں جمہوریت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جو کہ سراسر غلط ہے۔ بنیادی طور پر، امریکہ ہمیشہ مداخلت کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی نظر ان کے وسائل جیسے ایندھن وغیرہ پر ہے۔"انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کئی مسلم ممالک کو اسی طرح تباہ کر دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان ممالک میں لوگوں کے خلاف "مظالم" ہو رہے ہیں۔
غزہ میں مظالم پر امریکہ تماشائی
"تاہم، غزہ میں لوگوں کے خلاف سب سے بڑے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، لیکن امریکہ وہاں مداخلت نہیں کرتا۔ مجھے خوشی ہے کہ لوگ جموں و کشمیر میں سڑکوں پر نکل آئے، خاص طور پر کشمیر میں، ایران کی حمایت میں،" انہوں نے جمعہ کی نماز کے بعد کشمیر کے کئی حصوں میں ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ہندوستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے پی ڈی پی کے صدر نے کہا کہ پرانے وقتوں کی طرح پورے ملک میں اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں مظاہرے ہونے چاہیے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’کشمیر کا ایران کے ساتھ بھی گہرا رشتہ ہے، لیکن جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، ملک کا سارا نظام بدل گیا ہے، اور لوگ اب احتجاج کرنے سے ڈرتے ہیں‘‘۔
امام خمینی میموریل ٹرسٹ کی ریلی
کارگل میں امام خمینی میموریل ٹرسٹ کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں افراد نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس ریلی میں مرد، خواتین، علماء اور مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی جس کے دوران شعار بازی اور بینرز کے ذریعے ایران کی قیادت کی حمایت کی گئی۔ شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ ممالک ایران کے امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ریلی میں خامنہ ای کی تصویریں اٹھائی گئیں اور ہم اپنے قائد کے ساتھ ہیں جیسے نعروں کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نتن یاہو کے خلاف بھی اظہارِ احتجاج کیا گیا۔
درماندہ کشمیریوں کی واپسی کی مانگ
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے بیچ درماندہ کشمیریوں کی بھارت میں بحفاظت واپسی کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ عمرعبدللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے وزارتِ خارجہ کو خطوط لکھے اور اُن سے گزارش کی کہ سبھی درماندہ افراد کو، اسپیسل ہوائی جہاز کے ذریعے گھر واپس لایا جائے۔