Wednesday, February 25, 2026 | 07 رمضان 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راجستھان: دو سے زیادہ بچوں والے بھی پنچایت الیکشن لڑ سکیں گے، انتخابی پابندی ختم

راجستھان: دو سے زیادہ بچوں والے بھی پنچایت الیکشن لڑ سکیں گے، انتخابی پابندی ختم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 25, 2026 IST

راجستھان: دو سے زیادہ بچوں والے بھی پنچایت الیکشن لڑ سکیں گے، انتخابی پابندی ختم
راجستھان میں اب دو سے زیادہ بچوں والے افراد بھی بلدیاتی اداروں اور پنچایت کے انتخابات لڑ سکیں گے۔ راجستھان کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے بڑا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے دو سے زیادہ بچوں والے امیدواروں پر انتخابات لڑنے کی عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ موجودہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی اس تجویز کو ایوان میں پیش کر کے قانون کی شکل دی جائے گی۔ وزیر قانون جوگارام پٹیل نے بدھ (25 فروری) کو پریس کانفرنس میں اس کی معلومات دی۔ اس موقع پر کابینہ وزیر کرنل راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں۔
 
یہ فیصلہ آر ایس ایس کی فکر سے متاثر نہیں،  راجیہ وردھن راٹھور
 
راجیہ وردھن سنگھ راٹھور نے کہا کہ جو لوگ معاشی طور پر مستحکم ہیں اور زیادہ بچوں کی پرورش کر سکتے ہیں، انہیں انتخابات لڑنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ آر ایس ایس یا کسی اور نظریے سے متاثر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم کسی نظریے سے متاثر ہوتے تو صرف تین سے زیادہ بچوں والوں کو ہی انتخابات لڑنے کی اجازت دیتے۔
 
حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، کانگریس
 
کانگریس پارٹی نے کابینہ کے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
 
کابینہ اجلاس میں دیگر فیصلے
 
بجٹ سال 2024-25 میں آیوروید یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے راجستھان آیوروید، یوگا و نیچروپیتھی یونیورسٹی، اجمیر بل 2026 کے مسودے کو منظوری دی گئی۔
 
ریاست کو صنعتی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنانے کے لیے راجستھان انڈسٹریل پارک پروموشن پالیسی 2026 کے مسودے کی منظوری دی گئی۔
 
گرام وکاس افسر کیڈر کو ترقی کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے سینئر گرام وکاس افسر کے نئے عہدے کی تخلیق کی منظوری دی گئی۔
 
جرائم کی مؤثر روک تھام اور فوری کارروائی کے لیے ریونیو انٹیلی جنس و اقتصادی جرائم ڈائریکٹوریٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔
 
ریاست کو توانائی کے معاملے میں خود کفیل بنانے کے لیے تین اضلاع میں چار شمسی توانائی منصوبوں کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کو منظوری دی گئی۔