Wednesday, February 25, 2026 | 07 رمضان 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • ماہِ رمضان اور قرآنِ مجید کی برکات، ایمان کی تازگی اور تقویٰ کا پیغام

ماہِ رمضان اور قرآنِ مجید کی برکات، ایمان کی تازگی اور تقویٰ کا پیغام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 25, 2026 IST

ماہِ رمضان اور قرآنِ مجید کی برکات، ایمان کی تازگی اور تقویٰ کا پیغام
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پوری امتِ مسلمہ کے لیے عظیم نعمت بنایا۔ اسی ماہِ مبارک میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اور دونوں کا بنیادی مقصد انسان کے اندر تقویٰ، خوفِ خدا اور نیکی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔
 
رمضان: عبادت اور تزکیۂ نفس کا مہینہ
 
رمضان المبارک میں روزے فرض کیے گئے تاکہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی تربیت، صبر، برداشت اور اخلاق کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ روزے کی حالت میں انسان تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ ہر حال میں اسے دیکھ رہا ہے۔
 
اسی طرح رمضان کی راتوں میں تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں قرآنِ مجید کی تلاوت سننے اور سنانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ مہینہ دراصل عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، صدقہ و خیرات اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔
 
قرآنِ مجید: مکمل ضابطۂ حیات
 
قرآنِ مجید ایک جامع کتاب ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر موت اور بعد از موت کے تمام مراحل تک رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت، تجارت، عدل و انصاف، والدین کے حقوق، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک، حتیٰ کہ عالمی امن تک کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
 
قرآن ظلم، ناانصافی، سود، قتل و غارت اور بدعنوانی سے روکتا ہے، جبکہ حسنِ اخلاق، صبر، درگزر اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرے میں بے چینی اور انتشار بڑھ رہا ہے، قرآن کی تعلیمات پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
 
رمضان اور قرآن کا باہمی تعلق
 
رمضان تقویٰ پیدا کرتا ہے اور قرآن متقین کے لیے ہدایت ہے۔ جب انسان روزے کے ذریعے اپنے اندر اللہ کا خوف اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے تو وہ قرآن کی تعلیمات کو بہتر انداز میں سمجھ اور اپناتا ہے۔ یوں رمضان اور قرآن مل کر انسان کی شخصیت کو سنوارتے اور اسے اللہ کے قریب کرتے ہیں۔
 
احادیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن روزہ اور قرآن بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا کہ میں نے اسے دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا، اور قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات میں جگائے رکھا، لہٰذا اس کی مغفرت فرما دے۔
 
ہماری ذمہ داری
 
رمضان کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں مستقل تبدیلی لائیں۔ صرف ایک مہینے کی عبادت کافی نہیں، بلکہ قرآن سے تعلق پورے سال برقرار رہنا چاہیے۔ روزانہ کم از کم چند منٹ قرآن کی تلاوت، اس کا ترجمہ اور تفسیر سمجھنے کی کوشش ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
 
گھروں میں قرآن کی تلاوت کا ماحول بنانا چاہیے، بچوں کو قرآن سے جوڑنا چاہیے اور اپنی عملی زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن صرف ثواب کے لیے پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کی کتاب ہے۔
 
نتیجہ
 
رمضان اور قرآن دونوں انسان کو پاکیزگی، تقویٰ اور نیکی کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر ہم ان دونوں کا حق ادا کریں، روزوں کی حفاظت کریں، قرآن کی تلاوت کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی رمضان کا پیغام ہے اور یہی قرآن کا مقصد۔
 
مکمل ویڈیو کے لیے یہاں کلک کریں👇