راجستھان ہائی کورٹ نے ریاست میں تیزی سے بڑھتے سائبر کرائم، خاص طور پر ڈیجیٹل گرفتاری اور مالی فراڈ کے معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جامع اصلاحات کا حکم دیا ہے۔ جسٹس روی چرانیہ نے ایک 84 سالہ جوڑے کو 2 کروڑ 2 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ سائبر کرائم معاشرے اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
کیس کا خلاصہ؟
عدالت نے ریکارڈ کی بنیاد پرنتیجہ اخذ کیا کہ 29 اپریل سے 8 مئی 2025 کے درمیان، ملزمان خود کو، ممبئی سائبر پولیس، ای ڈی اور سی بی آئی کے افسر ظاہر کرتے ہوئے، متاثرہ جوڑے کو ڈیجیٹل گرفتاری میں رکھتے ہوئے 2.02 کروڑ روپے 9اکاؤنٹس میں منتقل کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس میں سے 45 لاکھ روپے براہ راست ملزمان کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ عدالت نے اسے منظم جرم قرار دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔
1:-سائبر سیکیورٹی کے لیے نئے ہدایات اور اقدامات:
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ مرکزی حکومت کے I4C ماڈل پر مبنی راجستھان سائبر کرائم کنٹرول سینٹر(R4C)کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔
خصوصی آئی ٹی انسپکٹرز کی بھرتی کرکے صرف سائبر جرائم کی تحقیقات کرائی جائیں۔
2:-بینکوں کے لیے ہدایات:
Mule Hunter:اے آئی مبنی ٹول فوری نافذ کیا جائے۔
مشکوک اکاؤنٹس کی دوبارہ KYC کرائی جائے۔
کم ڈیجیٹل خواندگی والے صارفین کے لیے آن لائن لین دین کی حد کو کنٹرول کریں۔
بزرگ/حساس گاہک کے کھاتوں سے اچانک بڑی لین دین کی صورت میں48 گھنٹوں میں گھر جا کر جسمانی تصدیق کی جائے۔
فکسڈ ڈپازٹ توڑنے پر لازمی الرٹ اور کاؤنسلنگ کی جائے۔
3:- ڈیجیٹل آلات اور مواصلات
نئے اور استعمال شدہ ڈیجیٹل آلات کا آن لائن رجسٹریشن DG سائبر کی نگرانی میں۔
ایک شخص کے نام پر 3 سے زیادہ سم جاری نہ ہوں۔
تمام کال سینٹرز/بی پی اوز کی لازمی رجسٹریشن کو لازمی ۔
Ola، Uber، Swiggy، اور Zomato جیسے گگ ورکرس کے لیے پولیس کی تصدیق، یونیفارم، QR شناختی کارڈ، اور ڈبل رجسٹریشن بھی لازمی ہوگی۔
4:-خواتین اور بچوں کی حفاظت پر عدالت کی سختی
خواتین مسافروں کے تحفظ کے لیے عدالت نے اے سی ایس ہوم کو ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹیشن کمپنیوں کو چھ ماہ کے اندر اندر کم از کم 15فیصد خواتین ڈرائیورز کی بھرتی کریں
اگلے 2-3 سالوں میں اسے 25فیصد تک بڑھا دیا جائے۔
ایپ میں خواتین مسافروں کو"خاتون ڈرائیور کا انتخاب" کا آپشن لازمی ہو۔
5:-بچوں کی سائبر حفاظت:
ہائی کورٹ نے بچوں کی سائبرسیکیوریٹی، سرکاری محکموں کے ڈیجیٹل آڈٹ اور ضلعی سطح پر سائبر آگاہی سیل بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز سے بچانے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
عدالت کا اہم پیغام:
ہائی کورٹ کی یہ ہدایت بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے معاشرے کو بچانے کے لیے کافی اہم مانا جا رہا ہے۔جسکے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔یہ فیصلہ نہ صرف راجستھان بلکہ پورے ملک کے لیے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک معيار کا درجہ رکھتا ہے اور ڈیجیٹل معیشت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔