مولانا ارشد مدنی کی خصوصی دعوت پر امام حرم کی بھارت آمد کو لیکر آج خطہ میوات کے مدرسہ فیض العلوم مالب کے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی ہال میں علاقائی طور پر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں میوات کے نصف درجن اضلاع سے زائد بشمول صوبہ ہریانہ راجستھان کے علاوہ شمالی ہریانہ کے ضلع پانی پت، یمنا نگر اضلاع سے ارباب مدارس سمیت سیاسی سماجی مذہبی علمی تبلیغی سرکردہ نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔
امام حرم کی بھارت آمد
یاد رہے کہ امام حرم کے ہندوستان دورہ تین مجوزہ مقامات پر ہوگا۔ جس میں قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کی جانب سے دیوبند، میوات، بینگلور کے مقامات عہدے داران جمعیتہ کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔جس میں ایک اہم مقام قومی دارالحکومت دہلی سے متصل خطہ میوات کا وسطی ضلع نوح کے دہلی ممبئی ہائیوے سے متصل کسی مقام پر ہونا اغلب بتایا جا رہا ہے، اسی مناسبت سے آج میوات کے مالب واقع مدرسہ فیض العلوم کی مدنی ہال میں علاقائی طور پر میٹنگ منعقد ہوئی ۔صوبائی صدر مولانا حکیم الدین اٹاوڑی کی صدارت میں رکھی گئی میٹنگ میں تین سے چار مقامات طے کیے گئے ہیں،ان تین مقامات میں سے کسی ایک مقام کو فائنل کرنے کے لیے جمعیتہ علماء ہند دفتر سے ایک وفد میوات کا دورہ کر مجوزہ جملہ مقامات کا دورہ کر حتمی اعلان کر دیا جائے گا۔
کمیٹی تشکیل
علاوہ ازیں علاقائی طور پر بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مرکز جمعیتہ علماء ہند سے آنے والے وفد کو تینوں چاروں مقامات کا دورہ کراکری متعینہ مقام کو حتمی شکل دے گا۔قابل ذکر ہے کہ امام حرم کی علاقہ میوات جیسے مردم خیز علاقے میں آمد کو لیکر آج تمام سیاسی سماجی مذہبی حلقوں کی نمائندہ شخصیات نے میٹنگ میں شرکت کی، اور عالمِ اسلام کی جلیل القدر روحانی علمی شخصیت، امامِ حرمین شریفین کی آمد کی خبر کو لیکر پُر جوش اور والہانہ جذبات سے لوگ سرشار نظر آئے ۔آج کی اس عمومی میٹنگ میں میوات کے درجنوں سیاسی و سماجی علمی سرکردہ شخصیات نے امام حرم کے مجوزہ دورہ کے مختلف پہلوؤں کو لیکر تفصیلی گفتگو کی۔
اس موقع پر ادارہ کے طلبہ کی تلاوت کلام پاک و نعت نبی کے بعد سامعین سے مولانا شیر محمد امینی، مولانا ارشد قاسمی میل کھیڑلا،سابق صدر مولانا ہارون قاسمی،ریاستی جنرل سیکرٹری مولانا قاری الیاس پاؤنٹی، جمعیتہ کے صوبائی صدر مولانا حکیم الدین، مولانا انوار، الحاج میانجی محمد رمضان، امیر شریعت مولانا محمد الیاس، نوح ایم ایل اے چوہدری آفتاب احمد، ہتھین ایم ایل اے چودہری اسرائیل، ایڈووکیٹ چودہری محمد طلحہ، چودہری طیب گھاسیڑیا، ابراہیم انجنئیر بیسرو، اسماعیل کاٹپوری، سمیت، مبلغ ماسٹر عرفان، سمیت دیگر لوگوں نے بھی دورہ کو لیکر مختلف حوالوں سے گفتگو کی۔
میٹنگ کا اختتام امیر شریعت مولانا محمد الیاس جھمراوٹ کی دعا پر ہوا، یاد ریے کہ موجودہ وقت میں اور اس پیرانہ سالی میں قومی صدر جمعیتہ علماء مولانا سید ارشد مدنی دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین و استاذِ حدیث اور جمعیۃ علماء ہند کے با بصیرت صدر ہیں۔ ان کی منشاء پر میوات میں امام حرم کی اس بابرکت آمد کو لیکر میوات کے تمام حلقے و خصوصی اہلِ علم، اہلِ دل اور خطہ کے اہل سیاست، ملک کی امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم روحانی سعادت، علمی افتخار اور دینی خوشخبری اور ملک میں سیاسی و سماجی ضرورت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
علاوہ ازیں دینی تعلیمی تبلیغی مذہبی حلقوں میں اس متوقع دورے کو لے کر میوات کے ارباب مدارس نیز خواص اور عوام الناس میں خوشی اور والہانہ جذبات پائے جا رہے ہیں۔تاہم عوام میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تشریف لانے والی شخصیت امامِ کعبہ فضیلۃ الشیخ الدکتور عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس سلسلے میں ہنوز سرکاری یا حتمی تصدیق کا اعلان کا انتظار باقی ہے۔ اس مناسبت سے میوات کے ارباب و حل و عقد آج کی اس میٹنگ کی کاروائی سے مولانا سید ارشد مدنی کو مطلع فرمائیں گے ، اور جس کے معاً بعد دورے سے متعلق دیگر اگلی ہدایات کا جمعیتہ علماء ہند دفتر کی جانب سے رہنمائی جاری ہوگی۔
اطلاع کے مطابق مولانا مدنی کی جانب سے پروگرام کی جگہ کو متعین کرنے کے لیے ایک مؤقر وفد کو بھیج جائے گا جو جگہ کے معاملے کو حتمی شکل دے گا، اور جلد ہی دورہ کی تیاریوں کو لیکر میوات میں سرگرمیاں تیز تر ہو جائیں گی۔
قابل ذکر ہے کہ امام حرمین اپنے میوات دورہ میں نماز کی ادائیگی سمیت فرزندان توحید سے اپنے خطاب عام کر جامع پیغام دیں گے، اس موقع پر اہم شرکاء میں، مولانا اسجد قاسمی، مولانا فجرو الدین گنگوانی، مولانا اسلام الدین، مولانا شیر محمد قاسمی، مولانا محمد صابر قاسمی، مولانا دلشاد قاسمی، مولانا شریف گنگوانی، مولانا عبدالستار، مولانا عابد ندوی، مولانا جمال الدین، حاجی محمد ہارون، ماسٹر عبد الوہاب، و دیگر خطے کے بڑے تعداد میں شرکت کی۔