سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے معاملے میں ایک اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے زمرے میں شامل ووٹروں کے نام عوام کے سامنے ظاہر کیے جائیں۔ عدالت نے یہ حکم پیر کے روز ان عرضیوں پر سماعت کے دوران دیا، جن میں ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ انتخابی عمل میں شفافیت جمہوریت کی بنیاد ہے اور ووٹروں کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ آیا ان کا نام کسی اعتراض یا جانچ کے زمرے میں رکھا گیا ہے یا نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی بعض ووٹروں کو ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے تحت نوٹس جاری کر چکا ہے، اس لیے اب ضروری ہے کہ ایسے تمام افراد کے نام گرام پنچایت بھون، بلاک دفاتر اور وارڈ دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں تاکہ متاثرہ ووٹرز کو بروقت اطلاع مل سکے۔
’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ سے مراد وہ غیر منطقی یا متضاد اندراجات ہیں جو ووٹر لسٹ میں پائے جائیں، جیسے ایک ہی ووٹر کا نام دو مختلف حلقوں میں درج ہونا، ووٹر کی عمر کا غیر منطقی ہونا، تاریخِ پیدائش اور عمر میں تضاد، ایک ہی پتے پر غیر معمولی تعداد میں ووٹروں کا اندراج، انتقال شدہ شخص کا نام فہرست میں موجود ہونا یا خاندانی معلومات کا ریکارڈ سے مطابقت نہ رکھنا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس زمرے میں شامل ہونا ووٹ کی منسوخی کے مترادف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف جانچ اور تصدیق ہے۔
سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو بھی ہدایت دی کہ وہ الیکشن کمیشن اور اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو مناسب افرادی قوت فراہم کرے تاکہ دعوؤں اور اعتراضات کی سماعت اور دستاویزات کی جانچ مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مجاز افسران کو اتھارٹی لیٹر جاری کیے جائیں اور مکمل سماعتی عمل، یعنی “ڈیو پروسس”، کی پابندی کی جائے۔
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ جن افراد نے اب تک اپنے دعوے یا اعتراضات داخل نہیں کیے ہیں، انہیں 10 دن کے اندر ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔ الیکشن کمیشن کو یہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی کہ نوٹس اور دستاویزات گرام پنچایت بھون میں ہی جمع کرائے جا سکیں، تاکہ دیہی علاقوں کے ووٹروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قانون و نظم کے حوالے سے عدالت نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی کو واضح ہدایت دی کہ پورے عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھا جائے، کیونکہ ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر سیاسی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ERONET پورٹل نے ’لاجیکل ڈسکریپنسیز‘ کے تحت 1.2 کروڑ سے زائد ناموں کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد اس عمل پر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے اس زمرے کو ’مشکوک‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات امرتیہ سین کا نام بھی ’لاجیکل ڈسکریپنسی‘ کے زمرے میں شامل پایا گیا۔ الیکشن حکام کے مطابق، ان کی عمر اور ان کی والدہ امیتا سین کی عمر کے درمیان ریکارڈ میں 15 سال سے کم کا فرق درج تھا، جس کی بنیاد پر پورٹل نے اعتراض ظاہر کیا۔
واضح رہے کہ دعوؤں اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ کو 15 جنوری سے بڑھا کر 19 جنوری 2026 کر دیا گیا ہے، جبکہ ان پر سماعت کا عمل 7 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ مغربی بنگال کی حتمی ووٹر فہرست 14 فروری 2026 کو شائع کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔