ہندوستان کے ممتاز اسلامی اسکالر، مصنف اور ماہرِ تعلیم مولانا سید سلمان حسینی ندوی پیر کے روز مختصر علالت کے بعد لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ وہ 72 برس کے تھے۔ ان کے انتقال سے ہندوستان اور عالمِ اسلام علمی، دینی اور فکری میدان کی ایک اہم شخصیت سے محروم ہو گئے۔
1954 میں لکھنؤ میں ایک معروف علمی و دینی خانوادے میں پیدا ہونے والے مولانا سلمان حسینی ندوی کا سلسلہ نسب حضرت امام حسین سے جا ملتا تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء میں حاصل کی، کم عمری میں قرآنِ مجید حفظ کیا اور بعد ازاں شریعت، حدیث اور اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
1974 میں ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد انہوں نے 1976 میں حدیث میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں معروف عالم شیخ عبدالفتاح ابو غدہ کی نگرانی میں 1980 میں علومِ حدیث میں ایک اور ماسٹر ڈگری مکمل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ندوۃ العلماء واپس آئے اور کئی دہائیوں تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ ادارے میں فیکلٹی آف دعوۃ و شریعت کے ڈین بھی رہے اور ہندوستان و بیرونِ ملک سے آنے والے ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی۔ انہیں ندوۃ العلماء کے نمایاں ترین اساتذہ اور محققین میں شمار کیا جاتا تھا۔
مولانا سلمان حسینی ندوی ایک ممتاز مصنف بھی تھے۔ انہوں نے حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، اسلامی فکر اور معاصر مسلم مسائل پر عربی اور اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عربی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہونے والے مختلف علمی جرائد کی ادارت اور ان میں علمی مضامین بھی تحریر کیے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ مختلف دینی، طبی، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں سے وابستہ رہے، جبکہ جمعیت شباب الاسلام کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ وہ ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال کے چیئرمین اور کئی دیگر تعلیمی اداروں کی سرپرستی بھی کرتے رہے۔
مولانا ندوی اپنے بے باک خیالات کے لیے بھی معروف تھے۔ وہ مسلم دنیا کے سیاسی و سماجی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے تھے اور بین المسالک ہم آہنگی، شیعہ سنی اتحاد اور بین المذاہب مکالمے کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے۔ اگرچہ ان کے بعض سیاسی اور مذہبی مؤقف پر تنقید بھی ہوئی، تاہم ان کے علمی مقام اور خدمات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا رہا۔
ان کے انتقال پر ملک و بیرونِ ملک کی دینی و تعلیمی شخصیات، مدارس، جامعات اور مختلف تنظیموں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور انہیں عصرِ حاضر کے ممتاز اسلامی مفکرین میں شمار کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی نمازِ جنازہ لکھنؤ کے قریب ملیح آباد میں ادا کی گئی، جس میں علماء، طلبہ اور ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔