Friday, January 30, 2026 | 11, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • روس-یوکرین جنگ :نوکری کے جھانسہ میں کئی دیگر ممالک کے افراد کی زندگیاں تباہ

روس-یوکرین جنگ :نوکری کے جھانسہ میں کئی دیگر ممالک کے افراد کی زندگیاں تباہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 27, 2026 IST

روس-یوکرین جنگ :نوکری کے جھانسہ میں کئی  دیگر ممالک کے افراد کی زندگیاں  تباہ
روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ چار سالوں  سے جنگ جاری ہے۔ جس میں لاکھوں فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔اسی بیچ  کئی ایسی حقیقی خبریں سامنے آئی جس میں روس نے دیگر ممالک کے شہریوں کو اپنی فوج میں بھرتی کر کے جنگ کے میدان میں بھیج دیا ۔جن میں بھارت کے کئی نوجوانوں نے  بھی ویڈیوز جاری کر کے الزام لگایا  کہ وہ نوکری کی تلاش میں روس گئے تھے، لیکن وہاں انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کر کے جنگی محاذ پر بھیج دیا گیا۔
 
وہیں اب بنگلہ دیش کے ایک درجن سے زائد افراد، جو روزگار کی تلاش میں روس گئے تھے، ان کے ساتھ بھی مبینہ طور پر یہی سلوک کیا گیا۔ ان لوگوں کو یوکرین میں جنگی محاذ پر لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ان سے کلینر، الیکٹریشن یا شیف جیسی شہری نوکریوں کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن روس پہنچنے پر انہیں فوجی معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
 
لکشمی پور کے رہنے والے مقصود الرحمن نے بتایا کہ وہ ایک ایجنٹ کے دھوکے میں دسمبر 2024 میں روس پہنچے تھے۔ انہیں کہا گیا تھا کہ انہیں ایک فوجی کیمپ میں کلینر کی نوکری ملے گی، جس کی تنخواہ ایک ہزار سے پندرہ سو ڈالر ماہانہ ہوگی۔ لیکن ماسکو پہنچنے کے بعد ان سے روسی زبان میں لکھے گئے کاغذات پر زبردستی دستخط کروائے گئے، جو بعد میں فوجی معاہدے نکلے۔
 
رحمن کے مطابق، انہیں ڈرون وارفیئر، اسلحہ چلانے اور میڈیکل ایویکیوشن کی تربیت دی گئی، اور پھر یوکرین کی سرحد کے قریب فرنٹ لائن پر بھیج دیا گیا۔ جب انہوں نے احتجاج کیا تو ایک روسی کمانڈر نے ترجمہ ایپ کے ذریعے ان سے کہا:تمہارے ایجنٹ نے تمہیں ہمیں بیچ دیا ہے۔
 
 ایک لڑکا فرار ہونے میں کامیاب:
 
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے تین بنگلہ دیشی مردوں سے بات کی جو روسی فوج سے فرار ہونے میں کامیاب ہو ئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں آگے بڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا جبکہ روسی فوجی پیچھے رہتے تھے۔ انہیں اکثر زخمی فوجیوں کو اٹھانے اور لاشیں لانے کا حکم دیا جاتا تھا۔
 
جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں مارا پیٹا گیا، بھوکا رکھا گیا اور دس سال قید کی دھمکی دی گئی۔ الرحمن نے بتایا کہ انہوں نے ڈرون حملوں میں کئی لوگوں کو مرتے دیکھا۔ ایک بار وہ کھانا پیش کر رہے تھے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ایک فوجی ڈرون حملے میں مارا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ،جنگ کے دوران انکے ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد انہیں اسپتال بھیجا گیا۔ وہ وہاں سے ماسکو میں بنگلہ دیشی سفارت خانے فرار ہو گئے اور کسی طرح اپنے وطن واپس لوٹنے میں کامیاب ہو گئے۔
 
یہ اس شخص کی کہانی ہے جو زندہ کسی بھی طرح سے اپنے وطن واپس لوٹ آئے،لیکن حالیہ مہینوں میں کئی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئی جس میں کئی ہندوستانی افراد نے کہا کہ انہیں دھوکہ سے فوج میں شامل کر دیا گیا ہے ،اور انہیں  جنگ کی میدان میں جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔جسکے بعد معلوم نہیں اب وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟