لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل کردیا گیا ہے۔لیبیا کے حکام نے اس قتل کی تصدیق کی ہے۔53 سالہ سیف الاسلام کا قتل دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع زنتان شہر میں کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 4 نقاب پوش حملہ آور منگل کی رات تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر 53 سالہ سیف الاسلام کو ان کی رہائش گاہ کے باغ میں گولیاں مار کر موقع سے فرار ہو گئے۔
25 جون 1972 کو طرابلس میں پیدا ہونے والے سیف الاسلام، معمر قذافی کے دوسرے بیٹے تھے۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی اور انہیں قذافی دور کے اصلاح پسند چہرے کے طور پر جانا جاتا تھا۔
سیف الاسلام کے والد معمر قذافی نے 1969 سے 2011 تک لیبیا پر حکمرانی کی۔40 سال سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد 2011 میں ایک بڑی بغاوت میں معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹا کر قتل کر دیا گیا۔
معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی سیف الاسلام قذافی لیبیا کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر موجود رہے۔
سیف الاسلام قذافی پر 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا،
2015ء میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں جنگی جرائم کے الزام میں انکی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی۔جسکے بعد کئی سالوں تک وہ زنتان میں روپوش رہے۔
2021ء میں لیبیا کے جنوبی شہر سبھا میں صدارتی انتخابات کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے منظرِ عام پر آئے۔انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا،لیکن نااہل قرار دیا گیا ۔