Wednesday, February 11, 2026 | 23, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سنبھل تشدد کیس: سی او انوج چودھری کے خلاف درج نہیں ہوگا مقدمہ، ہائی کورٹ کا فیصلہ

سنبھل تشدد کیس: سی او انوج چودھری کے خلاف درج نہیں ہوگا مقدمہ، ہائی کورٹ کا فیصلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

سنبھل تشدد کیس: سی او انوج چودھری کے خلاف درج نہیں ہوگا مقدمہ، ہائی کورٹ کا فیصلہ
اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں ہونے والے تشدد معاملہ میں اے ایس پی انوج چودھری  سمیت دیگر افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے معاملہ پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی،جس میں ہائی کورٹ نے ان افسران کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کے نچلی عدالت کے حکم پر  عبوری روک لگا دی ہے۔
 
جسٹس سمت گوپال کی سنگل بنچ نے سنبھل کی سی جے ایم (CJM) کورٹ کے اس فیصلے کو فی الحال معطل کر دیا ہے، جس میں پولیس کو ہجوم پر مبینہ فائرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگلی سماعت تک ایف آئی آر درج کرنے کا حکم نافذ نہیں ہوگا۔
 
 حکومت کی جانب سے دی گئی اہم دلیلیں:
 
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے عدالت میں حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے درج ذیل نکات اٹھائے:انہوں نے دلیل دی کہ سی جے ایم کورٹ نے بی این ایس ایس (BNSS) کی دفعہ 175 کے ضروری اصولوں پر عمل نہیں کیا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف انکوائری کا حکم دینے سے پہلے سینئر افسر کی رپورٹ اور حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
 
حکومت نے عدالت کو بتایا کہ آگرہ فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق، زخمی نوجوان کے جسم سے ملنے والی گولی اس کیلیبر (Caliber) کی نہیں ہے جو پولیس استعمال کرتی ہے۔ اس سے پولیس پر لگائے گئے الزامات پہلی نظر میں کمزور ثابت ہوتے ہیں۔
 
کیا ہے پورا معاملہ؟
 
یہ کیس سنبھل کے رہائشی یامین کی درخواست سے متعلق ہے۔یامین کا دعویٰ ہے کہ 24 نومبر 2024 کو جب ان کا بیٹا عالم ٹھیلہ لے کر گھر لوٹ رہا تھا، اس وقت جامع مسجد کے سروے کے خلاف احتجاج چل رہا تھا۔ الزام ہے کہ سی او انوج چودھری اور دیگر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی جس سے عالم زخمی ہو گیا۔
 
یامین کی درخواست پر سنبھل کی سی جے ایم کورٹ نے 22 پولیس والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
 
 موجودہ صورتحال:
 
ہائی کورٹ نے تمام پہلوؤں کو سننے کے بعد نچلی عدالت کے حکم پر حکمِ امتناع (Stay) جاری کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب انوج چودھری اور دیگر اہلکاروں کے خلاف فی الحال کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ کیس کی اگلی سماعت مقررہ وقت پر ہوگی۔