دہلی کے ستیہ نکیتن میں پی جی کی عمارت منہدم ہونے کے واقعے پر سیاسی ردعمل تیز ہوگیا ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے اس حادثے کو لے کر دہلی حکومت اور وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سنجے راوت نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ عمارت غیر قانونی تھی تو حکومت اور متعلقہ محکمے اتنے عرصے تک خاموش کیوں رہے؟ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آنے والے نوجوانوں کو مبینہ انتظامی غفلت کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔ راوت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور پورے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حادثات صرف ایک عمارت کے گرنے کا معاملہ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے انتظامی نگرانی، تعمیراتی معیار اور غیر قانونی پی جی کے نظام سے متعلق کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر عمارت میں حفاظتی خامیاں موجود تھیں تو متعلقہ حکام نے وقت رہتے کارروائی کیوں نہیں کی۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے بھی ستیہ نکیتن حادثے کے بعد حکومت کے سامنے سات مطالبات رکھے ہیں۔ پارٹی نے مبینہ پی جی مافیا کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے لیے محفوظ اور مناسب ہاسٹل کی سہولت بڑھانے کی ضرورت ہے۔حادثے میں کم از کم سات افراد کی موت ہوئی، جن میں زیادہ تر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ بتائے گئے ہیں۔ جنوبی مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں کثیر منزلہ پی جی ڈھانچہ گرنے سے کئی دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور امدادی کارروائیاں کی گئیں اور عمارت کی تعمیر اور حفاظتی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھائے گئے۔
اس معاملے میں پولیس نے پی جی کے مالک، اس کی اہلیہ اور بیٹے کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ عمارت میں تعمیراتی یا حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں اور حادثے کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ستیہ نکیتن حادثے نے دہلی میں طلبہ کے لیے چلنے والے پی جی اور ہاسٹل کی عمارتوں کی حفاظت پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ اب حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں۔