نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد آج 7 ستمبر کو قومی یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن سیلاب میں ہلاک ہوۓ 1,380 سے زائد افراد کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ یہ آفت نیپال کی حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کی جا رہی ہے۔ 26 اگست کو چین کی سرحد سے متصل نیپال کے رسووا ضلع اور آس پاس کے علاقوں میں شدید سیلاب آیا تھا۔ اس سیلاب کے بعد تقریباً 5 ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 589 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
قومی یومِ سوگ کے دن نیپال کی سرکاری عمارتوں اور دوسرے ملکوں میں موجود نیپال کے سفارت خانوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا ہے تاکہ سیلاب میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے لیے غم اور احترام کا اظہار کیا جا سکے۔ مختلف مقامات پر ہلاک ہوے لوگوں کے لیے دعائیہ تقریبات بھی کی جا رہی ہیں۔
7 ستمبر کو قومی یومِ سوگ منانے کا فیصلہ نیپال کی حکومت نے کیا تھا۔ یہ دن سیلاب کے 13ویں روز منایا جا رہا ہے۔ ہندو روایات میں کسی شخص کی موت کے بعد 13ویں روز سوگ اور ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ سیلاب رسووا، نوواکوٹ، دھادنگ اور بھوٹےکوشی اور ترشولی دریاؤں کے علاقوں سمیت کئی مقامات میں تباہی کا سبب بنا۔ سیلاب سے گھروں، سڑکوں، پلوں، ہائیڈرو پاور منصوبوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں میں تقریباً 900 کارکن لاپتہ ہیں اور تقریباً 500 افراد کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں خاص طور پر ان سرنگوں میں تلاش کر رہی ہیں۔ سیلاب کے بعد تلاش اور امدادی کاروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ سیکیورٹی اہلکار اور خصوصی ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں اور مختلف مقامات سے لاشیں نکالنے کا کام بھی جاری ہے۔ خاص طور پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش پر توجہ دی جا رہی ہے۔
نیپال کی حکومت نے امدادی کاروائیوں کے لیے فوج، پولیس، مسلح پولیس فورس اور دیگر اداروں کو متحرک کر رکھا ہے۔ بھارت، چین، جنوبی کوریااور دیگر ممالک کی ماہر ٹیمیں بھی تلاش اور ریسکیو آپریشن میں مدد کر رہی ہیں۔نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت، چین اور جنوبی کوریا کی ٹنل ریسکیو ٹیمیں نیپالی فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ بھارت کی ٹیم میں ٹنل ریسکیو ماہرین کے ساتھ فرانزک ماہرین بھی شامل ہیں۔
اس آفت سے تقریباً 32 ہزار خاندان بے گھر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 7500 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب نے وسطی نیپال میں لوگوں کے روزگار اور ضروری بنیادی سہولتوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق لاشوں کی شناخت کے لیے بھارت، چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا کی فرانزک ٹیمیں نیپالی حکام کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ لاوارث لاشوں کو عارضی طور پر دفن کیا جا رہا ہے تاکہ بعد میں شناخت کے بعد انہیں خاندانوں کے حوالے کیا جا سکے۔
نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق ہزاروں افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور ہائیڈرو پاور منصوبوں میں ریسکیو کاروائیاں جاری ہیں۔ 5 ستمبر تک تقریباً 5 ہزار افراد کے لاپتہ ہونے اور1,380 لاشیں ملنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ معلومات کے مطابق تلاش، ریسکیو اور لاپتہ افراد کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ حکام لاشوں اور لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کر رہے ہیں۔