Monday, September 07, 2026 | 23 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ اسمبلی کا مانسون اجلاس آج سے شروع، بی آر ایس کا کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج

تلنگانہ اسمبلی کا مانسون اجلاس آج سے شروع، بی آر ایس کا کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 07, 2026 IST

تلنگانہ اسمبلی کا مانسون اجلاس آج سے شروع، بی آر ایس کا کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج
تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا مانسون اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اجلاس کے پہلے ہی دن سیاسی درجہ حرارت بڑھا ہوا نظر آیا، جہاں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف معاملات پر تنقید اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پہلے دن کی کارروائی بنیادی طور پر سوال و جواب کے سیشن کے لیے مختص رہی، جبکہ حکومت کی جانب سے کئی اہم رپورٹس بھی ایوان کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔اجلاس کے دوران ریاست سے متعلق مختلف اہم مسائل پر بحث ہونے کی توقع ہے۔ سوال و جواب کے سیشن کے بعد وزیر اعلیٰ کی جانب سے اہم رپورٹس پیش کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ ان میں تلنگانہ سماگرا شکشا 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ اور پی ایم سری تلنگانہ 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میٹرو سے متعلق پانچ سالانہ رپورٹس بھی ایوان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
 
دوسری جانب اسمبلی اجلاس کے آغاز سے قبل بی آر ایس نے کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ بی آر ایس کے ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز نے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کی قیادت میں حیدرآباد کے گن پارک میں سیاہ ٹی شرٹس پہن کر مظاہرہ کیا۔ ٹی شرٹس پر کانگریس حکومت کی جانب سے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے سے متعلق پیغامات درج تھے۔اس موقع پر کے ٹی راما راؤ نے کانگریس حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابات سے قبل عوام سے متعدد وعدے کیے گئے تھے، لیکن حکومت کے ایک ہزار دن مکمل ہونے کے باوجود ان وعدوں پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی کارکردگی کو ناکام قرار دیتے ہوئے عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
 
کے ٹی آر نے سیاہ ٹی شرٹس پہن کر احتجاج کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر راہول گاندھی سیاہ ٹی شرٹ پہن کر پارلیمنٹ جا سکتے ہیں تو بی آر ایس ارکان بھی اسی انداز میں اسمبلی میں کیوں نہیں آ سکتے۔اس دوران اسمبلی اجلاس سے قبل اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب بی آر ایس ارکان نے اسمبلی احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال مزید گرم ہو گئی۔ بی آر ایس ایل پی کے ڈپٹی لیڈر ٹی ہریش راؤ سمیت کئی دیگر قانون سازوں کو حراست میں لے کر تلنگانہ بھون منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے۔
 
گرفتاریوں پر کے ٹی راما راؤ نے پولیس کارروائی پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے بی آر ایس ارکان کے ساتھ پولیس کا رویہ غیر انسانی تھا اور گرفتاری کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقہ اختیار کیا۔مانسون اجلاس کے آغاز ہی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس سیاسی ٹکراؤ سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں اسمبلی کی کارروائی خاصی ہنگامہ خیز رہنے کا امکان ہے۔ عوامی مسائل، حکومتی وعدوں اور ریاستی ترقی سے متعلق امور پر حکمراں جماعت اور بی آر ایس کے درمیان مزید گرما گرم بحث متوقع ہے۔