دہرادون کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پتنجلی یوگ پیٹھ کے جنرل سکریٹری اور بابا رام دیو کے قریبی ساتھی آچاریہ بال کرشن کو جعلی دستاویزات کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کے معاملے میں تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ تقریباً 15 سال تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔یہ معاملہ آچاریہ بال کرشن کی جانب سے پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے بریلی کے پاسپورٹ دفتر میں جمع کرائی گئی تعلیمی دستاویزات سے متعلق تھا۔ الزام تھا کہ انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت اور ایک سنسکرت کالج سے وابستگی کے حوالے سے ایسی دستاویزات پیش کیں جنہیں تفتیشی ایجنسی نے جعلی قرار دیا تھا۔
آچاریہ بال کرشن نے مبینہ طور پر خرجہ کے ایک سنسکرت کالج سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملے میں کالج کے پرنسپل پروفیسر نریش دویدی کی جانب سے جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس بھی زیرِ تفتیش آئے۔ سی بی آئی نے پروفیسر نریش دویدی کو بھی اس کیس میں شریک ملزم بنایا تھا۔
تفتیش کے دوران سی بی آئی نے ان دستاویزات کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا اور کئی سال تک قانونی کارروائی جاری رہی۔
جولائی 2011 میں کیس کی تحقیقات کے دوران اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری پر عبوری روک لگا دی تھی۔ عدالت نے انہیں اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس کے بعد ان کا پاسپورٹ ایک طویل عرصے تک عدالتی کارروائی کے دوران عدالت میں جمع رہا۔ سال 2018 میں ہائی کورٹ نے آچاریہ بال کرشن کو اپنا پاسپورٹ واپس لینے اور اس کی تجدید کرانے کی اجازت دے دی تھی۔ تاہم جعلی دستاویزات سے متعلق اصل مقدمہ اس کے باوجود جاری رہا اور حتمی فیصلے تک پہنچنے میں تقریباً ڈیڑھ دہائی لگ گئی۔
اب دہرادون میں تھرڈ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد آچاریہ بال کرشن کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً 15 سال سے جاری یہ قانونی معاملہ باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔ فیصلے کے بعد آچاریہ بال کرشن نے اسے عدالتی نظام پر اپنے اعتماد کی فتح قرار دیا۔ ان کی بریت کے بعد اب اس طویل قانونی تنازع کا اختتام ہو گیا ہے، جس میں پاسپورٹ کے لیے جمع کرائی گئی تعلیمی دستاویزات کی صداقت بنیادی معاملہ بنی رہی۔