ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے سرینگر شہر بند پڑا ہے ۔ علاقے میں احتجاج کے خدشات کے پیشِ نظر سکیورٹی اقدامات میں شدید اضافہ کیا گیا ہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستے حساس مقامات پر تعینات ہیں اور سرینگر سمیت وادی بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندیاں برقرار ہے۔ حکومت نے لال چوک جیسے مرکزی مقامات کو بند کر دیا ہے ۔تاکہ بڑے پیمانے پر مظاہروں کو روکا جا سکے۔ موبائل انٹرنیٹ خدمات تاحال محدود رفتار پر برقرار ہیں اور اسکول و کالجز کو 7 مارچ تک بند رکھنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
فاروق عبداللہ نے کیا کہا؟
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری جنگی کارروائیاں انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہیں اور بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے تاکہ صورتحال کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکے۔فاروق عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے۔ کٹرا دورہ کے موقع پر فاروق عبداللہ نے یہ بات کہی ۔
ساتھ ہی بتاتے چلیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بحرین سے دہلی پہنچنے والے مسافروں نے اپنے تجربات اور خدشات بیان کیے۔ مسافروں نے بتایا کہ خطے میں بڑھتے تناؤ اور فضائی حدود کی بندش کے باعث سفر کے دوران شدید بے یقینی اور خوف کا ماحول تھا۔اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے والے کئی مسافروں نے کہا کہ صورتحال کے باعث پروازوں میں تاخیر اور روٹ کی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، تاہم وہ بحفاظت بھارت پہنچنے پر راحت محسوس کر رہے ہیں۔ بعض مسافروں کے مطابق بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے ۔