Thursday, April 02, 2026 | 13 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • پیڈیاٹرک ایمرجنسی علامات اور ماہر ڈاکٹرز کی والدین کو ہدایات

پیڈیاٹرک ایمرجنسی علامات اور ماہر ڈاکٹرز کی والدین کو ہدایات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 01, 2026 IST

پیڈیاٹرک ایمرجنسی علامات اور ماہر ڈاکٹرز کی والدین کو ہدایات
بچوں کی صحت بظاہر ٹھیک نظر آنے کے باوجود بعض اوقات اندرونی طور پر سنگین طبی مسائل پیدا ہو رہے ہوتے ہیں، جنہیں ماہرین "سائلنٹ میڈیکل ایمرجنسیز" قرار دیتے ہیں۔  منصف ٹی وی کے  ہیلتھ پروگرام میں ماہرِ اطفال ڈاکٹر خلیل خان نے والدین کو خبردار کیا کہ بچوں میں معمولی دکھائی دینے والی علامات کو بھی نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
 
ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے، خاص طور پر شیرخوار، اپنی تکالیف کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، اس لیے ان کے رویے اور عادات میں معمولی تبدیلی بھی کسی بڑی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر بچہ اچانک کمزور، غیر فعال یا حد سے زیادہ سونے لگے، دودھ یا کھانا کم کر دے، یا پیشاب کی مقدار کم ہو جائے تو یہ ابتدائی خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔
 
ڈاکٹر خلیل خان کے مطابق بعض سنگین بیماریاں جیسے دماغی انفیکشن، سیپسس یا سانس کی تکالیف ابتدا میں واضح علامات ظاہر نہیں کرتیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر مسلسل الٹی، غیر معمولی غنودگی، یا بچے کے جسم کا رنگ بدلنا ایسے اشارے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔
 
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) بچوں میں ایک عام لیکن خطرناک مسئلہ ہے، جو الٹی، دست یا گرمی کے باعث ہو سکتا ہے۔ اگر بچے کی جلد خشک ہو، آنکھیں دھنس جائیں یا پیشاب کم ہو جائے تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ شدید صورت میں یہ گردوں کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔
سانس کی تیز رفتار، پسلیوں کا اندر دھنسنا یا ناک کا پھولنا بھی خطرناک علامات میں شامل ہیں۔ ایسے میں گھر پر خود علاج یا نیبولائزر کا غیر ضروری استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
 
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ والدین بچوں کے رویے میں تبدیلی جیسے مسلسل رونا، آنکھوں کا فوکس ختم ہونا یا غیر معمولی سستی کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ علامات دماغی مسائل یا دیگر پیچیدگیوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص اور علاج سے نہ صرف بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ بچے کو آئی سی یو میں داخلے جیسی سنگین صورتحال سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی فطری حس پر بھروسہ کریں اور اگر انہیں کچھ غیر معمولی محسوس ہو تو فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔ قارئین آپ  ڈاکٹر خلیل خان  کی بات چیت کا مکمل ویڈیو یہاں دیکھ سکتےہیں۔