ایران: امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایل پی جی اور قدرتی گیس کی سپلائی پر بڑا اثر پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت کی پیٹرولیم وزارت نے قدرتی گیس کی تقسیم کے لیے ایک واضح ترجیحی فہرست جاری کی ہے۔ اگر گیس کی کمی ہوتی ہے تو اب یہ طے کر دیا گیا ہے کہ کس شعبے کو کتنی گیس فراہم کی جائے گی۔
کن شعبوں میں گیس کی کٹوتی نہیں ہوگی؟
حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین اور ضروری شعبوں کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس لیے انہیں 100 فیصد سپلائی دی جائے گی۔ گھروں میں پائپڈ نیچرل گیس (PNG) وہ گیس جو براہ راست پائپ کے ذریعے گھروں تک پہنچتی ہے اور باورچی خانے میں استعمال ہوتی ہے۔ سی این جی (CNG): گاڑیوں، آٹو رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کمپریسڈ نیچرل گیس۔ایل پی جی کی پیداوار: گھریلو گیس سلنڈرز بنانے کے لیے استعمال ہونے والی گیس۔
پائپ لائن چلانے کے لیے ضروری ایندھن
گیس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے عمل میں استعمال ہونے والی گیس۔یہ تمام شعبے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں، اس لیے حکومت نے انہیں سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔ گھریلو PNG اور CNG کی سپلائی کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا تاکہ لوگوں کو کھانا پکانے یا گاڑیاں چلانے میں کوئی مشکل نہ ہو۔
کن شعبوں میں گیس کی کٹوتی ہوگی؟
مرکزی حکومت صنعتی شعبوں میں گیس کی سپلائی کم کرے گی۔ انہیں گزشتہ اوسط استعمال کے حساب سے کم مقدار دی جائے گی، یعنی پچھلے چند مہینوں میں جتنی گیس استعمال ہوئی تھی اس کا صرف ایک حصہ فراہم کیا جائے گا۔
پچھلے 6 مہینوں کی اوسط کھپت کا صرف 80 فیصد
فرٹیلائزر (کھاد) کمپنیاں، 70 فیصد الاٹمنٹ
تیل ریفائنریز، 65 فیصد الاٹمنٹ
ہوٹل ایسوسی ایشن پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اگر کمرشل گیس نہ ملی تو بنگلور جیسے شہروں میں ہوٹل بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کی ترجیح عام شہری ہیں، اسی لیے گھریلو اور ضروری شعبوں کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت نے یہ فیصلہ کیوں لیا؟
یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ بھارت اپنی ایل پی جی کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے درآمدات متاثر ہو گئی ہیں، جس کے باعث کمرشل LPG (ہوٹل اور ریسٹورنٹس میں استعمال ہونے والی گیس) میں پہلے ہی کمی پیدا ہو چکی ہے۔
گھریلو ایل پی جی کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے ریفائنریز کو زیادہ پیداوار کا حکم دیا ہے اور گھریلو سلنڈر کی بکنگ کے درمیان وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دیا گیا ہے تاکہ اسٹاک محفوظ رکھا جا سکے۔
پیٹرولیم وزارت کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 40 دن کے لیے ایل پی جی کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک سے متبادل درآمدات بھی بڑھائی جا رہی ہیں۔ تاہم اگر بحران طویل ہو گیا تو صنعتوں پر اثر پڑنا یقینی ہے، جیسے چائے کے باغات میں پیداوار کم ہونا یا کھاد بنانے والی کمپنیوں کا کام متاثر ہونا۔