سپریم کورٹ نے عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے غیر مجاز استعمال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اب سپریم کورٹ یا کسی بھی ہائی کورٹ کی کارروائی کی ویڈیو یا آڈیو کو متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا، یوٹیوب یا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پوسٹ، شیئر یا اپ لوڈ نہیں کیا جا سکے گا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کر تے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ کو غلط انداز میں پیش کرنے یا اس کے مختصر کلپس وائرل کرنے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لئے پابندی لگائی جا رہی ہے۔
یہ حکم اس درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا جس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عدالتی کارروائی کی ویڈیوز اور آڈیوز کے غیر مجاز استعمال اور ان سے مالی فائدہ اٹھانے پر پابندی لگائی جائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے کہا کے سوشل میڈیا پر عدالتی کارروائی کے چھوٹے چھوٹے کلپس پھیلائے جا رہے ہیں، جس سے عدالت کی کارروائی کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی اس خدشے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں واضح ضابطہ ہونا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر کوئی شخص عدالتی کارروائی کی ویڈیو یا آڈیو استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے سپریم کورٹ کے سیکریٹری جنرل یا متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے تحریری اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف مکمل ویڈیو ہی نہیں بلکہ اس کے مختصر کلپس، ترمیم شدہ حصے یا ایڈیٹ شدہ مواد کو بھی بغیر اجازت شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کو منیٹائز کرنا یا ان کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنا بھی ممنوع ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد اظہارِ رائے پر پابندی لگانا نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کے غلط استعمال کو روکنا اور عدالتی وقار کو برقرار رکھنا ہے۔
البتہ عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس حکم سے میڈیا کی معمول کی رپورٹنگ متاثر نہیں ہوگی۔ اخبارات، نیوز چینلز اور دیگر میڈیا ادارے پہلے کی طرح عدالتی کارروائی سے متعلق خبریں شائع اور نشر کر سکیں گے۔ پابندی صرف عدالتی ریکارڈنگ کے غیر مجاز استعمال اور اس کی تجارتی یا گمراہ کن تشہیر پر عائد کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کے سیکریٹری جنرل اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس حکم کو اپنی سرکاری ویب سائٹس پر شائع کریں تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو نئی ہدایات سے آگاہ کیا جا سکے۔