Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • طلبہ احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ میں سماعت جاری، 14 سالہ گواہ کی سکیورٹی پر عدالت کی ہدایت

طلبہ احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ میں سماعت جاری، 14 سالہ گواہ کی سکیورٹی پر عدالت کی ہدایت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

طلبہ احتجاج معاملہ: سپریم کورٹ میں سماعت جاری، 14 سالہ گواہ کی سکیورٹی پر عدالت کی ہدایت
سپریم کورٹ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق معاملے کی سماعت جاری ہے۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات اور جائزے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ کمیٹی کا اگلا اجلاس 15 ستمبر کو منعقد ہوگا۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کے کام کاج پر نظر رکھنے اور عدالت کو باقاعدگی سے پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے کسی ایمیکس کیوری یعنی عدالتی معاون یا نوڈل افسر کا تقرر کیا جائے۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سپریم کورٹ کمیٹی کی کارروائی سے باخبر رہ سکے گی اور مقدمے سے وابستہ فریقین کے وکلاء کو بھی اپنی تجاویز اور معلومات کمیٹی تک پہنچانے کا مناسب موقع ملے گا۔
 
سماعت کے دوران سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کمیٹی کے ایک رکن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے موقف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند مخصوص افراد کے علاوہ باقی سبھی کو بددیانت سمجھا جا رہا ہے۔ بنچ کے رکن جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے کافی غور و خوض کے بعد ہی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے جنتر منتر واقعے کے ایک عینی شاہد کو عدالت کے سامنے پیش کیا اور اسے اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے کہا کہ جو بھی شخص معاملے سے متعلق اپنی بات یا معلومات دینا چاہتا ہے، وہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کر سکتا ہے۔ وکیل نے ایسے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے نوڈل افسر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی جو خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 14 سالہ گواہ بھی ہے جسے مبینہ طور پر تحفظ کی ضرورت ہے۔
 
سماعت کے دوران ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق، لڑکی کی جانب سے مقدمہ درج کرائے جانے کے بعد اس کے خلاف بھی جوابی ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ اسے مبینہ طور پر دھمکانے والے افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ انصاف کی طلبگار لڑکی کو ہراساں کرنا برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ضرورت پڑنے پر لڑکی کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اتر پردیش اور دہلی سے اس معاملے پر اسٹیٹس رپورٹس طلب کی جائیں گی۔ سماعت کے دوران احتجاج کے دوران میٹرو اسٹیشنز بند کیے جانے کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے اٹھایا گیا۔ وکیل نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے علیحدہ سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے اس درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کو آگے سننے پر رضامندی ظاہر کی۔