Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر میں ایک ہڑتال ختم دوسری ہڑتال شروع

جموں و کشمیر میں ایک ہڑتال ختم دوسری ہڑتال شروع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

جموں و کشمیر میں ایک ہڑتال ختم دوسری ہڑتال شروع
جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس انٹرنز کی ہڑتال ختم ہونے کے فوراً بعد نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین نے 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے جموں و کشمیر میں صحت کی خدمات ایک بار پھر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن کے ملازمین نے 9 ستمبر سے 72 گھنٹے کی ہڑتال شروع کی ہے۔ ان ملازمین کی تعداد پورے جموں و کشمیر میں 12 ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ یہ ہڑتال اضلاع، بلاکس اور فیلڈ سطح پر کی جا رہی ہے۔
 
'NHM 'کے ملازمین حفاظتی ٹیکوں، ماں اور بچے کی صحت اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے پروگراموں میں کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں ان کی خدمات اہم ہیں۔ جموں و کشمیر کے محکمہ صحت اور طبی تعلیم میں تقریباً 16 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ اس کمی میں ڈاکٹروں کے ساتھ پیرا میڈیکل اور دیگر ملازمین کی آسامیاں بھی شامل ہیں۔ اس وجہ سے صحت کا نظام 'NHM' اور دیگر معاہداتی ملازمین پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔
 
'NHM' ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 5 ستمبر تک ان کے مطالبات پر کاروائی کا وعدہ کیا تھا، لیکن انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔ اسی وجہ سے انہوں نے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 'NHM' ملازمین کی تنظیم کے ترجمان عبدالرؤف کے مطابق، کئی ملازمین تقریباً 18 سال سے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی ملازمت مستقل کرنے یا ملازمت کا تحفظ دینے کے لیے کوئی جامع نظام موجود نہیں ہے۔
 
ملازمین کے اہم مطالبات میں اہل 'NHM' ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے مقررہ مدت میں عمل مکمل کرنا، ملازمت کا طویل مدتی تحفظ، مساوی کام کے لیے مساوی معاوضہ اور ساتویں پے کمیشن کے فوائد دینا شامل ہیں۔ وہ دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے' NHM' ملازم کے اہل خانہ کو 30 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
 
اس سال اپریل میں بھی 'NHM' ملازمین نے ہڑتال کی تھی۔ حکومت کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے ایک دن میں ہڑتال ختم کر دی تھی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس وقت دو ماہ میں مطالبات پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
 

وظیفے کے مطالبے پر انٹرنز کی ہڑتال ختم

اس سے پہلے جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجز میں 'MBBS' اور 'BDS' انٹرنز نے 31 اگست کے آس پاس ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کا مطالبہ ماہانہ وظیفہ 12,300 روپے سے بڑھا کر 30,000 روپے کرنا تھا۔ انٹرنز کا کہنا تھا کہ تقریباً سات سال سے ان کے وظیفے میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ 2023 میں محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے بنائی گئی ایک کمیٹی نے وظیفہ تقریباً 25 ہزار روپے کرنے کی سفارش بھی کی تھی، لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔
 
منگل کو انٹرنز کے نمائندوں نے جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اتو سے ملاقات کی۔ حکومت نے انہیں 30 دن کے اندر وظیفے کے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد انٹرنز نے اپنی ہڑتال ختم کر دی اور دوبارہ کام شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔