Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • بہار: بختیارپور کا نام بدلنے کی تجویز پر سیاسی گھمسان

بہار: بختیارپور کا نام بدلنے کی تجویز پر سیاسی گھمسان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

بہار: بختیارپور کا نام بدلنے کی تجویز پر سیاسی گھمسان
بہارکے دارالحکومت پٹنہ کے قریب واقع بختیارپور کا نام تبدیل کرنے کی تجویز نے بہار کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نام کی تبدیلی کو لے کر جاری قیاس آرائیوں کے درمیان سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوگئی ہے۔ گزشتہ بدھ کو بہار حکومت کے وزیر اور سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے بیٹے سنتوش سمن نے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے سامنے بختیارپور کا نام بدل کر ’’نتیش پور‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ سنتوش سمن کی اس تجویز پر راشٹریہ جنتا دل (RJD) نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آر جے ڈی کے رکن اسمبلی بھائی ویریندر نے نام کی تبدیلی کی تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے خوشامد کی سیاست قرار دیا۔
 
بھائی ویریندر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر نام ہی بدلنا ہے تو پھر ’’ہندوستان‘‘ کا نام بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر رکھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں، تو ’’ہندوستان‘‘ اور ’’بھارت‘‘ دونوں کے نام بھی تبدیل کردیے جائیں اور یہ اعلان کردیا جائے کہ ’’مودی ہی ملک ہیں‘‘۔آر جے ڈی رکن اسمبلی نے سوال کیا کہ بختیارپور کا نام ’’نتیش پور‘‘ یا ’’نتیش پورم‘‘ رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کا نام بختیارپور ہے اور اسے بختیارپور ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات پر سیاست کرنے کے بجائے حکومت کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
 
بھائی ویریندر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے عوام روزگار اور مہنگائی جیسے مسائل سے پریشان ہیں، لیکن ان مسائل پر خاطر خواہ بات نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت دینے اور عوام کی بنیادی مشکلات دور کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف نام تبدیل کرنے سے بہار کے عوام کی فلاح و بہبود نہیں ہوسکتی۔ اگر حکومت کے پاس نام تبدیل کرنے کا اختیار ہے تو وہ ایسا کرسکتی ہے، لیکن عوام کے حقیقی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔
 
آر جے ڈی رکن اسمبلی نے سنتوش سمن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکمرانوں کو خوشامد کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بے روزگاری اور بھوک جیسے مسائل پر توجہ دے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ بختیارپور کے نام کی تبدیلی کی تجویز پر سیاسی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہار میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں اور مختلف جماعتیں عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کو لے کر ایک دوسرے پر حملے کر رہی ہیں۔