Monday, June 15, 2026 | 28 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ٹی ایم سی کے باغی ارکان پالیمنٹ این سی پی آئی میں کیوں شامل ہوئے؟

ٹی ایم سی کے باغی ارکان پالیمنٹ این سی پی آئی میں کیوں شامل ہوئے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 15, 2026 IST

ٹی ایم سی کے باغی ارکان پالیمنٹ این سی پی آئی میں کیوں شامل ہوئے؟
ترنمول کانگریس میں پھوٹ۔ باغی ممبران پارلیمنٹ این سی پی آئی میں شامل
این سی پی آئی صرف  میں 1.13 لاکھروپےعطیہ والی غیر معروف پارٹی 
پارٹی نے تریپورہ انتخابات میں حصہ لیا اور صرف 822 ووٹ حاصل کئے
پارٹی کو انتخابات کے بعد غائب ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا
این سی پی آئی میں ٹی ایم سی ممبران پارلیمنٹ آمد سےقومی سطح پر دھماکہ 
 
مغربی بنگال کی  سابق حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں سیاسی بحران بڑھ گیا ہے۔ پارٹی کے لگ بھگ 20 لوک سبھا ممبران  پارلیمنٹ  نے علم  بغاوت بلند کیا  ہے۔ ان سب نے ایک چھوٹی پارٹی نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) کے ساتھ الحاق کر لیا ہے اور بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس گروپ  نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے 14 جون کو دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، پارلیمنٹ میں علیحدہ نشستوں فراہم کرنے  کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خط پیش کیا۔

ٹی ایم سی کے دوتہائی باغی ارکان کی حکمت عملی؟

قابل ذکر ہے کہ ٹی ایم سی لوک سبھا پارٹی کے کل 28 ارکان پارلیمنٹ میں سے دو تہائی سے زیادہ اس باغی دھڑے میں شامل ہیں۔ انہوں نے انضمام کی یہ حکمت عملی اینٹی ڈیفیکشن ایکٹ کی دفعات سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے اپنائی ہے۔ باغی گروپ کی قیادت کرنے والے کاکولی گھوش دستیدار نے کہا کہ وہ ایک تسلیم شدہ علاقائی پارٹی این سی پی آئی کے ساتھ ضم ہو گئے ہیں اور اب وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کے ساتھ کام کریں گے۔ اس گروپ میں سدیپ بندیوپادھیائے، شتابدی رائے، سابق کرکٹر یوسف پٹھان اور سیونی گھوش جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔

 غیرمعروف پارٹی قوسطح پر سرخیوں میں آ گئی

 ٹی ایم سی ممبران پارلیمنٹ کے این سی پی آئی میں شامل ہونے کے بعد، فی الحال پارٹی کو لے کر سیاسی حلقوں میں ایک دلچسپ بحث چل رہی ہے۔ این سی پی آئی، جو اب تک زیادہ مقبول نہیں تھی، اس ترقی کے ساتھ اچانک قومی سطح پر سرخیوں میں آگئی ہے۔

2023 میں ہوئی رجسٹر،صرف1.13لاکھ کا چندہ

تاہم، یہ قابل ذکر ہے کہ  این سی پی آئی  پارٹی کی زیادہ سیاسی تاریخ یا مضبوط بنیادیں نہیں ہیں۔ پارٹی کو 20 جنوری 2023 کو تریپورہ اسمبلی انتخابات سے چند ہفتے قبل مرکزی الیکشن کمیشن میں رجسٹر کیا گیا تھا۔ حالانکہ مغربی بنگال کے ہاوڑہ ضلع میں ایک پتہ کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، پارٹی نے سب سے پہلے تریپورہ میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ پارٹی کو ملنے والے  جملہ  چندہ صرف  1.13 لاکھ  روپے  ہے۔

پارٹی کو ملے صرف 822ووٹ

تریپورہ کی قبائلی برادریوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابی میدان میں اترنے والی پارٹی نے سات امیدواروں کا اعلان کیا، لیکن صرف دو پارٹی کے نشان پر انتخاب لڑنے میں کامیاب ہوئے۔ ان سب کو ملا کر صرف 822 ووٹ ملے۔ اس وقت کے امیدواروں کا الزام ہے کہ پارٹی قیادت انتخابات کے بعد غائب ہو گئی اور ان سے تعلقات منقطع کر لیے۔ این سی پی آئی کی قیادت کو اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جو لوگ انتخابات کے دوران کولکاتاسے آئے تھے وہ اس کے بعد غائب ہو گئے ہیں۔

 تقریباًغائب ہونے والی پارٹی کی قومی سطح پرانٹری 

آسام میں پارٹی کی جانب سے انتخاب لڑنے والے برجیدہ تریپورہ نامی شخص نے بھی یہی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد پارٹی رہنماؤں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ چھوٹی پارٹی، جو تریپورہ انتخابات کے بعد اندرونی اختلافات اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے تقریباً غائب ہو گئی تھی، اب اچانک ٹی ایم سی کے باغی ممبران پارلیمنٹ کے انضمام سے قومی سیاست میں ایک موضوع بحث بن گئی ہے۔
ٹی ایم سی کے باغی ارکان پارلیمنٹ کی کیا سیاسی مجبوری تھی کہ وہ ایک قومی پارٹی سے ایک علاقائی اورغیرمعروف پارٹی میں شامل ہوئے اور پارٹی کو ہی ضم کردیا۔ یہ وہی بہتر بتا سکتےہیں۔ شائد ایسے ہی حالات پر شاعر نے کہا 
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں  کوئی  بے وفا  نہیں ہوتا