Monday, June 15, 2026 | 28 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • حیدرآباد میٹرو توسیع کیلئے فنڈز روکنے پر ریونت ریڈی مرکز سے ناراض۔ اورکہی یہ بات

حیدرآباد میٹرو توسیع کیلئے فنڈز روکنے پر ریونت ریڈی مرکز سے ناراض۔ اورکہی یہ بات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 15, 2026 IST

حیدرآباد میٹرو توسیع کیلئے فنڈز روکنے پر ریونت ریڈی مرکز سے ناراض۔ اورکہی یہ بات
 تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد میٹرو ریل کی توسیع کے لیے انڈین ریلوے فنانس کارپوریشن ( آئی آر ایف سی ) سے فنڈز جاری نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایل اینڈ ٹی سے میٹرو کے پہلے مرحلے کو حاصل کرنے کے تمام معاہدے مکمل ہو چکے ہیں تو پھر رقم کیوں روکی گئی۔

 میٹرو ریل کی توسیع انتہائی ضروری 

وزیراعلیٰ نے ریاستی سکریٹریٹ میں وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے میٹرو ریل کی توسیع انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایل اینڈ ٹی سے حیدرآباد میٹرو کے پہلے مرحلے کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 13,500 کروڑ روپے کے قرض کے سلسلے میں  آئی آر ایف سی کے ساتھ تمام معاہدے مکمل کر لیے گئے تھے۔ ریاستی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے کاؤنٹر گارنٹی بھی فراہم کی گئی، لیکن اس کے باوجود مقررہ وقت پر فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

رقم ابھی تک نہیں جاری کی گئی

ریونت ریڈی نے کہا کہ جاپان کی ایک مالیاتی ادارے کے ذریعے رقم پہلے ہی  آئی آر ایف سی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی ہے، لیکن معاہدے کے مطابق ایل اینڈ ٹی کو ادا کی جانے والی رقم ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔

 مرکزاین اوسی دے، ہم میٹرو کوتوسیع دے گی

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق ریاستی حکومت نے میٹرو کے پہلے مرحلے کو حاصل کرنے کی تیاری مکمل کی ہے تاکہ دوسرے مرحلے کی توسیع شروع کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مرکز حکومت این او سی دے تو تلنگانہ حکومت اپنی سو فیصد ایکویٹی کے ذریعے بھی میٹرو توسیع کے لیے تیار ہے۔

 شہرکی درجہ بندی متاثر 

 وزیراعلیٰ  ریونت ریڈی  نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو کو ملک کے بہترین شہری ٹرانسپورٹ نظام میں شامل کیا گیا تھا، لیکن گزشتہ دس برسوں میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے اس کی درجہ بندی متاثر ہوئی ہے۔

 میٹرو ریل کی توسیع انتہائی ضروری 

ریونت ریڈی کے مطابق حیدرآباد کور اربن ریجن میں آبادی تقریباً 1.34 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس لیے میٹرو کا دائرہ بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 حکومت میٹرو کو حاصل کرنے کا کیا فیصلہ 

انہوں نے بتایا کہ ایل اینڈ ٹی نے سالانہ 350 سے 400 کروڑ روپے کے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے دوسرے مرحلے کی توسیع سے انکار کیا تھا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے میٹرو کو خود حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کے میٹرو منصوبے کو ریاست نے 15 ہزار کروڑ روپے میں حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہر کے تمام علاقوں کو میٹرو نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے۔

 تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزرا، تعاون کریں 

انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی میٹرو توسیع کے لیے تعاون کیا جائے اور مرکزی وزیر کشن ریڈی سے معاملے کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کا مقصد سیاسی تنازع پیدا کرنا نہیں بلکہ عوامی مفاد میں مسئلہ حل کرنا ہے تاکہ حیدرآباد کے شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔