ای 20 پٹرول پالیسی کے خلاف مجوزہ احتجاجی مارچ اور بھوک ہڑتال سے قبل سماجی کارکن تحسین پونا والا نے دہلی پولیس پر انہیں گھر میں نظر بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ہفتے کے روز انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر متعدد ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ان کے گھر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات دکھائی دے رہے ہیں۔
تحسین پونا والا کا دعویٰ ہے کہ وہ ای 20 پٹرول پالیسی کے خلاف پرامن احتجاج اور بھوک ہڑتال شروع کرنے والے تھے، لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے انہیں گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے احتجاج سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے انہیں عملی طور پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ویڈیوز میں پونا والا پولیس اہلکاروں سے سوال کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ انہیں کس قانونی بنیاد پر گھر سے باہر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں نہ تو کوئی تحریری حکم نامہ دکھایا گیا اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔
پونا والا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی جمہوری ملک میں ایک شہری کو پرامن احتجاج سے پہلے ہی گھر میں محدود کر دیا جائے تو یہ اظہارِ رائے اور احتجاج کے آئینی حق پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف عوامی مفاد کے ایک مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنا چاہتے تھے۔ دوسری جانب، دہلی پولیس کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ پولیس کی موجودگی احتیاطی اقدام کے طور پر تھی یا کسی مخصوص انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر۔
واضح رہے کہ E20 پٹرول پالیسی کے تحت گاڑیوں میں 20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی سے خام تیل پر انحصار کم ہوگا، ماحولیات کو فائدہ پہنچے گا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، اس پالیسی پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں گاڑیوں کی مطابقت، ایندھن کی کارکردگی اور صارفین پر ممکنہ معاشی اثرات شامل ہیں۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تحسین پونا والا کے نظر بندی کے دعوے پر دہلی پولیس کیا وضاحت پیش کرتی ہے، اور آیا مجوزہ احتجاج کو مستقبل میں اجازت دی جاتی ہے یا نہیں۔