تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے چنئی میں کھیلوں کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے دو بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت چنئی میں ایک عالمی معیار کا اولمپک سٹی قائم کرے گی، جبکہ فارمولا ون ریس کی میزبانی کے مقصد سے ایک الگ موٹر اسپورٹس سٹی بھی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اولمپک سٹی کو تمل ناڈو اسپورٹس ڈیولپمنٹ اتھارٹی تیار کرے گی۔ اس میں عالمی معیار کے کھیلوں کے میدان، جدید کھیلوں کا سامان، کھلاڑیوں کے لیے اعلیٰ کارکردگی کا تربیتی مرکز اور اسپورٹس سائنس و اسپورٹس میڈیسن کے مراکز شامل ہوں گے۔
کھلاڑیوں اور کوچز کے لیے رہائش
اولمپک سٹی میں کھلاڑیوں اور کوچز کے لیے رہائشی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کا مقصد ایک ایسا مکمل کھیلوں کا مرکز بنانا ہے جہاں کھلاڑیوں کو تربیت کے ساتھ طبی اور سائنسی مدد بھی مل سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس منصوبے سے تمل ناڈو کے کھلاڑی اولمپک اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے اور ملک کے لیے مزید تمغے جیتنے میں مدد ملے گی۔ تمل ناڈو اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے صرف اولمپک سٹی اور موٹر اسپورٹس سٹی کا اعلان نہیں کیا، بلکہ نئے اسمبلی اور سکریٹریٹ کمپلیکس کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ اس منصوبے پر تقریباً 1,200 کروڑ روپے خرچ ہونے اور اسے تقریباً 20 لاکھ مربع فٹ رقبے میں تعمیر کرنے کی بات کہی گئی۔
چنئی میں موٹر اسپورٹس سٹی بھی بنے گا
وزیر اعلیٰ نے چنئی میں ایک مخصوص موٹر اسپورٹس سٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں میں موٹراسپورٹس کی صلاحیتوں کو تلاش کرنا، انہیں تربیت دینا اور قومی و بین الاقوامی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید کار ریسنگ ٹریک اور موٹر اسپورٹس سے متعلق دیگر سہولیات تیار کی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے سیاحت، روزگار، آٹو موبائل سے جڑی صنعتوں اور ریاست کی معاشی ترقی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
فارمولا ون کی واپسی کی کوشش
تمل ناڈو حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکز بھی بھارت میں فارمولا ون ریسنگ کی واپسی کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت نے موٹر اسپورٹس کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے، جس کا مقصد 2028 کے آخر تک بھارت میں فارمولا ون ریس واپس لانے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔