Saturday, January 17, 2026 | 28, 1447 رجب
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • اڈیشہ میں گائے کے تحفظ کے نام پر دہشت، انتہا پسندوں نے مسلم شخص کا کیا قتل

اڈیشہ میں گائے کے تحفظ کے نام پر دہشت، انتہا پسندوں نے مسلم شخص کا کیا قتل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 17, 2026 IST

اڈیشہ میں گائے کے تحفظ کے نام پر دہشت، انتہا پسندوں نے مسلم شخص کا کیا قتل
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حالیہ برسوں میں مسلمانوں کے خلاف  پر تشدد واقعات میں  مسلسل اضافہ ہوا ہے  ۔کئی ایسے واقعات رو نما ہوئے ہیں ،جنہوں نے مسلم مخالف سوچ کو ظاہر کیا ہے۔اسی درمیان  اڈیشہ کے بالاسور ضلع سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے ،جس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف ہو رہے پر تشدد واقعات سے تشویس پیدا کر دی ہے ۔در اصل،یہاں  گائے کے تحفظ کے نام پر چند شر پسند افراد نے ایک مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا ہے۔ 
 
واقعے پر اویسی کی سخت مذمت:
 
اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اے آئی ایم کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ،انہوں نے کہا کہ اڈیشہ میں بی جے پی کی حکومت ہےاور جہاں بھی بی جے پی ہے وہاں شر پسندوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ گؤ رکشک کےنام پر کسی کو بھی مار سکتے ہیں۔انہوں نے  مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک ایف آئی آر  تو مرنے  والے اور ڈرائیور پر درج کر دی گئی ،بعد میں جب میڈیا نے معاملہ کو اٹھایا  ،تب جا کر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
 
کیا ہے پورا معاملہ؟
 
14 جنوری کو اڈیشہ کے بالاسور میں 'ایس کےمحمد 'نامی شخص کا اس وقت پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا ،جب وہ مبینہ طور پر ایک پک اپ ٹرک میں گائے اور کچھ مویشی لے جا رہا تھا۔ ہجوم نے مبینہ طور پر گاڑی کو روک کر مویشیوں کو لے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے بعد ڈرائیور اور ایس کے محمد  کو مارا پیٹا گیا۔ مہلک ہتھیار سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔
 
اس واقعے کی ایک مبینہ ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں کچھ لوگ متاثرہ کو مذہبی نعرے لگانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بدھ 14 جنوری کی صبح 5 بجے پیش آیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر مظلوم کے خلاف شکایت درج کی، جس میں گاڑی کے ڈرائیور اور مالک کو ملزم نامزد کیا گیا،بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کے احتجاج کے بعد قتل کا مقدمہ  درج کیا گیا۔ متوفی کی شناخت ایس کے مکندر محمد کے طور پر کی گئی ہے۔
 
پانچ ملزمان زیر حراست:
 
اہل خانہ کی  جانب سے کی گئی شکایت ، جس میں کہا گیا کہ پانچ لوگوں نے سڑک پر گاڑی روکی اور اس کے بھائی پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ تھوڑی دیر بعد پولیس کی ایک گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچی۔ متاثرہ کو بالاسور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 103(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس کا تعلق ہجومی تشدد سے ہے۔
 
پولیس کے مطابق دوسری ایف آئی آر میں شامل پانچ ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کیا اس واقعے میں کوئی اور ملوث ہے۔