Tuesday, January 27, 2026 | 08, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مدر آف آل ڈیل کا آج ہوسکتاہے اعلان

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مدر آف آل ڈیل کا آج ہوسکتاہے اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 27, 2026 IST

ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مدر آف آل ڈیل کا آج ہوسکتاہے اعلان
ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان طویل عرصہ سے زیرالتوا آزاد تجارتی معاہدہ پر مذاکرات کامیابی کے ساتھ ختم ہوگئے ہیں۔ کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ اس تاریخی معاہدے کا جسے مدر آف آل ڈیلز کہا جاتا ہے، کا باضابطہ اعلان آج نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 16ویں انڈیا۔ یوروپی یونین سربراہی کانفرنس میں کیاجائے گا۔
 
 معاہدے کے عمل کے مطابق اب اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس قانونی جائزے کو مکمل ہونے میں تقریباً پانچ سے چھ ماہ لگنے کی توقع ہے جس کے بعد باضابطہ دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ سال سے نافذ العمل ہوسکتا ہے۔ اس سے دونوں فریقوں کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کو ایک نئی تحریک ملے گی۔
 
بھارت-یورپی یونین (EU) کے ساتھ تجارت 51 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید:
 
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا سرپلس مالی سال 2031 تک 51 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق، دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر بات چیت تقریباً ایک دہائی قبل شروع ہوئی تھی، لیکن عالمی تجارت میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقوں نے اسے تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔  
 
Emkay Global کی جانب سے اتوار کو جاری کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے ساتھ ایک جامع فری ٹریڈ ایگریمنٹ بھارت کی تجارتی پوزیشن کو کافی مضبوط کر سکتا ہے۔ اس معاہدے سے مالی سال 2031 تک یورپی یونین کے ساتھ بھارت کا ٹریڈ سرپلس 50 ارب ڈالر سے زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اس سے بھارت کے کل برآمدات میں EU کی حصہ داری مالی سال 2025 کے 17.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 22-23 فیصد ہو سکتی ہے، جس سے بھارت کی برآمدات کی ترقی کو زبردست فروغ ملے گا۔
 
ڈیل EU کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
 
موجودہ دور میں EU کے برآمداتی مارکیٹ میں بھارت کی حصہ داری صرف 0.8 فیصد ہے، پھر بھی یہ معاہدہ یورپ کے لیے بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت کے ساتھ یورپ کے تجارتی توازن میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ مالی سال 2019 میں یورپی یونین کا بھارت کے ساتھ ٹریڈ سرپلس 3 ارب ڈالر تھا، جو مالی سال 2025 میں 15 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ چین پر انحصار کم کرنے اور عالمی سپلائی چینز میں تنوع لانے کے یورپ کے وسیع تر کوششوں میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
 
بھارت کے ان شعبوں کو ملے گا بڑا مارکیٹ
 
اس FTA سے بھارت کے مزید لیبر انٹینسیو (مزدور استعمال والے) شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور فٹ ویئر کے علاوہ الیکٹرانکس، مشینری اور کیمیکل انڈسٹری کو بڑا مارکیٹ مل سکتا ہے۔ مالی سال 2025 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان 136 ارب ڈالر کا تجارتی حجم تھا۔ اس دوران یورپی یونین سے بھارت نے 60.7 ارب ڈالر کا درآمد کیا تھا، جبکہ 75.9 ارب ڈالر کا سامان یورپ کو برآمد کیا تھا۔  
 
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اجے شریواستو نے کہا کہ یورپی یونین کو بھارت سے ہونے والی برآمدات، جن میں سمارٹ فونز، کپڑے، جوتے، ٹائر، ادویات، آٹو پارٹس، پروسیسڈ فیول اور ہیرے شامل ہیں، بنیادی طور پر ان درآمدات کی جگہ لیتی ہیں جو یورپ پہلے دیگر ممالک سے حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے بہت سی مینوفیکچرنگ سرگرمیاں یورپی کمپنیوں نے برسوں پہلے دوسرے ممالک میں منتقل کر دی تھیں۔
 
امریکہ ۔ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدوں سے ناراض :
 
ادھر دوسری جانب امریکہ ۔ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدوں سے ناراض ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدتا ہے، اسے ریفائن کرتا ہے اور پھر یورپی ممالک اسی تیل کی مصنوعات خریدتے ہیں۔ ان کے بقول اس سے روس یوکرائن جنگ کی مالی امداد ہو رہی ہے۔ 
 
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سے امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جسے بعد میں بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کیلئے یورپ سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ یورپ اپنے خلاف جنگ کی مالی امداد کر رہا ہے۔