Monday, December 01, 2025 | 10, 1447 جمادى الثانية
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • امریکی اسٹیم شعبہ جات کی عالمی دست رس

امریکی اسٹیم شعبہ جات کی عالمی دست رس

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Nov 28, 2025 IST

امریکی اسٹیم  شعبہ جات کی عالمی دست رس
 
سونالی کدم کے آئی وی ایل پی تجربے نے انہیں امریکہ کی ا سٹیم شعبہ جات  کی برتری سے روشناس کرایا جس سے متاثر ہوکر وہ ہندوستان میں تعلیم ، اختراع اور افرادی قوت کی ترقی کی خاطر امریکی نمونوں کی پیروی کے لیے کوشاں ہیں۔ 
 

ظہور حسین بٹ
 

امریکہ نے اسٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی )  شعبہ جات کے مضبوط نظام قائم کیے ہیں جو اختراع اور مینٹورشپ (راہنمائی) کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی ترقی اور عالمی معیشت میں مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے مؤثر پالیسی ماڈلس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔اسٹیم میگنیٹ اسکولوں،  اسکول سے باہر کے مقابلے، سائنسی عجائب گھروں ، انکیوبیٹرس(ایسے ادارے یا پروگرام جو نئے اور اسٹارٹ اپ کاروباروں کی ترقی اور کامیابی میں مدد کے لیے وسائل اور خدمات فراہم کرتے ہیں)اور ایکسیلیریٹرس (ایک منظم پروگرام جو ابتدائی مرحلے کے کاروباروں کو تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتا ہے، وسائل، رہنمائی اور کبھی کبھار ابتدائی سرمایہ فراہم کرتا ہے، بدلے میں حصص لیتا ہے)جیسے پروگرام نوجوانوں کو وہ بنیادی ہنرمند بناتے ہیں جو قومی اختراعی حکمتِ عملیوں اور افرادی قوت کی صلاحیتِ مسابقت میں براہِ راست حصہ ڈالتے ہیں۔
 
سونالی کدم نے امریکی محکمۂ خارجہ کے بین الاقوامی وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) بعنوان ’’ایڈوانسنگ اسٹم اِن دی کواڈ‘‘ میں شرکت کے ذریعے ان نظاموں کو قریب سے دیکھا۔ وہ خاص طور پر اُن امریکی ماڈلس سے متاثر ہوئیں جو کلاس رومس سے باہر سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ آئی وی ایل پی امریکی حکومت کا بنیادی پیشہ ورانہ تبادلہ پروگرام ہے، جو مختصر دوروں کے ذریعے قومی سلامتی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے سرکاری، کاروباری اور تعلیمی رہنماؤں کے ساتھ امریکی برادریوں کے دیرپا تعلقات قائم کرتا ہے۔
 
امریکی تجربات کا ہندوستان میں اطلاق
 
کدم کہتی ہیں ’’اسٹیم کی یہ جگہیں نوجوانوں کو تجربہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، یہ طریقہ تعلیم کو دلچسپ اور بامعنی بنا سکتا ہے۔ ان کا آئی وی ایل پی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی طریقے بین الاقوامی اسٹیم پالیسی اور تعلیمی حکمتِ عملیوں کے لیے راہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، اور انہیں اپنا کر ہندوستان میں افرادی قوت کی ترقی اور اختراعی صلاحیت پر قابلِ پیمائش اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ 
 
کدم اپنے امریکی تجربے کو پہلے ہی ہندوستان میں افرادی قوت کی ترقی کے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کر رہی ہیں۔ وہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، دفاعی ٹیکنالوجی، اور گیم ڈیزائن جیسے شعبوں میں ایسے پروگرام ترتیب دے رہی ہیں جو ہندوستان  کے تبدیل ہوتے ہوئے ہنر کی ضروریات پوری کریں اور عالمی صنعتی معیار کے مطابق ہوں۔ اس سے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تعاون مضبوط ہو رہا ہے، خاص طور پر اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں۔
 
ان کے ادارے نے امریکی شراکت داروں کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ کدم کہتی ہیں ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سمبایوسِس اسکلس اینڈ پروفیشنل یونیورسٹی نے اس سال ڈیفنس ٹیک پروگرام شروع کیا ہے۔‘‘ کئی امریکی اداروں کے ساتھ مشترکہ ڈگری پروگراموں، تحقیقی منصوبوں اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق ’’ان شراکتوں کا مقصد سرحد پار ہنر مندی کے فروغ ، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور اختراع کو فروغ دینا ہے‘‘ جو مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے وسیع تر اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
 
کدم کہتی ہیں ’’آئی وی ایل پی سے حاصل ہونے والے اسباق بہترین طریقوں اور عملی ماڈلز کے انضمام میں طویل عرصے تک مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘ ان کے مطابق، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں نئے پروگرام شروع کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ مضبوط ربط و ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ وہ یقین رکھتی ہیں کہ اُن کے امریکی روابط ان کے ادارے کو ’’تعلیم کے نئے اور غیر دریافت شدہ میدانوں‘‘ میں داخل ہونے میں مدد دیں گے۔
 
تبادلہ پروگراموں سے تحریک
 
کدم کا ماننا ہے کہ علم اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں امریکی ماڈلس اور ادارہ جاتی شراکتیں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان باہمی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہیں۔
 
آئی وی ایل پی نے واضح کیا کہ پالیسی کی وہ مربوط حکمت عملی، جو علمی حلقون ، صنعت اور طبقات کو مربوط کرتی ہے ، کس طرح ہنر کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کدم کہتی ہیں ’’اس نظام کے تین ستون تعلیم کو اختراع کی طرف لے جاتے ہیں۔ صنعت ہنر سازی کے لیے ضروری بصیرت فراہم کرتی ہے، جب کہ کمیونٹی سرگرم شمولیت اور عزم کے ذریعے اس افرادی قوت کی تشکیل میں حصہ ڈالتی ہے۔‘‘ ایسے منظم پروگراموں اور کمیونٹی پر مبنی اقدامات نے آئی وی ایل پی کے اسباق کو عملی شکل دی، اور یہ دکھایا کہ نظریہ اور عمل کے امتزاج سے کس طرح مؤثر اسٹیم  نظام تشکیل پاتے ہیں۔
 
کدم کہتی ہیں ’’اسٹیم  میگنیٹ اسکولوں کا تصور میرے لیے بالکل نیا اور دلچسپ تھا۔ آؤٹ آف اسکول یا اسکول سے باہر سیکھنے کے پروگرام (یعنی وہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں جو اسکول کے ماحول سے باہر انجام پاتی ہیں)، اسٹیم  مقابلے، سائنسی عجائب گھروں ، انکیوبیٹرس، ایکسیلیریٹرس، اور سب سے بڑھ کر نوجوانوں کی راہنمائی کے لیے کمیونٹی کا جذبہ — یہ سب میرے لیے خاص طور پر یادگار اور متاثر کن تجربات تھے۔‘‘
 
ان کے دورے کا ایک لمحہ ان کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔ وہ یاد کرتی ہیں ’’میرے لیے ایک یادگار تجربہ وہ تھا جب میں نے ’سی سے پویڈے فاؤنڈیشن‘ میں خواتین کی اُس روبوٹکس ٹیم سے ملاقات کی جو خودکار زیرِ آب گاڑیاں ڈیزائن اور تیار کر رہی تھی۔ ان خواتین سے ملاقات نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔‘‘ ایسے تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ عملی تربیت اور رہنمائی مستقبل کی افرادی قوت کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لیے کس قدر اہم ہیں۔
 
اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کر نے کے کئی چیلنج ہیں ۔ کدم کے مطابق، تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور صنعت کی بدلتی ضروریات سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مستقل تعاون ضروری ہے تاکہ قومی اختراعی اہداف کے مطابق پیش رفت ممکن ہو سکے۔
 
وہ کہتی ہیں ’’سمبایوسِس میں ہم صنعت کے ساتھ بہت قریب سے کام کرتے ہیں اور پروگرام کی تیاری، تدریس اور جائزے کے ہر مرحلے میں اُن سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، یہ طریقہ تعلیم کو عملی تقاضوں سے جوڑے رکھتا ہے اور یقینی بناتا ہے کہ طلبہ نہ صرف ملازمت کے قابل ہوں بلکہ عالمی سطح پر بھی مسابقتی ثابت ہوں۔
 
فوجی خدمت سے تعلیمی قیادت تک
 
کدم کے مطابق، ۲۲ سال کی عمر میں ہندوستانی فوج میں شمولیت نے ان کے سوچنے اور کام کرنے کے انداز پر گہرا اثر ڈالا۔ اس تجربے نے انہیں افرادی قوت کی ترقی اور قیادت کے کئی عملی اسباق سکھائے۔ وہ کہتی ہیں ’’فوج نے مجھے استقامت، ٹیم ورک، قیادت، اور مثال بن کر قیادت کرنے جیسے کئی اہم سبق دیے۔‘‘ فوجی خدمت نے انہیں یہ بھی سکھایا کہ منظم تربیت کس طرح اہم ٹیکنالوجیوں میں مہارت حاصل کرنے کی بنیاد بنتی ہے اور یہی اصول آج ان کے اسٹیم  پروگراموں کے ڈیزائن کی بنیاد ہے۔
 
سنہ ۲۰۱۰ میں، کدم نے فوج سے تعلیمی میدان میں قدم رکھا۔ فوجی تجربے اور بین الاقوامی روابط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اب سمبایوسِس سینٹر فار ڈسٹنس لرننگ کی ڈائریکٹر ہیں، جہاں وہ ایسے پروگراموں کو فروغ دینے کو یقینی بناتی ہیں جوہندوستان  کی اسٹریٹجک مہارت کی ترقی کی ترجیحات اور اسٹیم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں امریکہ کے تعاون کے مواقع کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
 

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی