مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا اور حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ریاستی حکومت کو اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے یا نہیں۔ اس دوران،یو م جمہوریہ کے موقع پر تقریب کے لیے سرکاری فہرست میں وجے شاہ کا نام شامل ہونے سے سیاسی طوفان مزید تیز ہو گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق، وزیر وجے شاہ رتلام ضلع میں یو م جمہوریہ تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے۔
کانگریس پارٹی نے اس فیصلے پر حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرنل صوفیہ قریشی پر اعتراض ناک تبصرہ کرنے والے وزیر کو قومی پرچم لہرانے کا اعزاز دینا انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ کانگریس نے اسے نہ صرف ایک خاتون افسر کی توہین بتایا ہے بلکہ فوج اور ملک کی وقار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ وجے شاہ نے آپریشن سندور میں شامل کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف نامناسب اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ جمہوریہ دیوس جیسے قومی تہوار پر ایسے شخص کو مہمان خصوصی بنانا حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود حکومت کا یہ قدم آئین اور عدالتی عمل کے تئیں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس دوران بی جے پی اس پورے معاملے میں پیچھے ہٹتی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرنل صوفیہ قریشی معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک ایس آئی ٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے اپنی تفتیش مکمل کر لی ہے اور اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو جمع کر دی ہے۔ تاہم، وزیر وجے شاہ کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی سرزنش :
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر سخت رویہ اپناتے ہوئے ریاستی حکومت کو دو ہفتوں کے اندر یہ واضح کرنے کا حکم دیا ہے کہ کیا وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں تاخیر قابل قبول نہیں ہے اور حکومت کو واضح فیصلہ لینا ہوگا۔ تاہم، وزیر وجے شاہ نے عوامی طور پر معافی مانگ لی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس معافی کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔