Thursday, February 12, 2026 | 24, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • خون کی کمی کا بروقت علاج ممکن، مگر درست تشخیص شرط

خون کی کمی کا بروقت علاج ممکن، مگر درست تشخیص شرط

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 11, 2026 IST

خون کی کمی کا بروقت علاج ممکن، مگر درست تشخیص شرط
حیدرآباد: منصف ٹی وی کے مقبولِ عام صحت پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں آج معروف ڈاکٹر ایس۔ کے۔ وحید حسین نے Genetic Anemia اور Iron Deficiency Anemiaکے درمیان بنیادی فرق، اس کی وجوہات، علامات اور علاج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروگرام میں ناظرین کو سادہ اور عام فہم انداز میں اہم طبی معلومات فراہم کی گئیں۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ڈاکٹر وحید حسین نے بتایا کہ انیمیا (خون کی کمی) دراصل خون میں ہیموگلوبن کی مقدار کم ہونے کا نام ہے، جس کے باعث جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی۔ اس کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سب سے عام آئرن کی کمی سے ہونے والا انیمیا ہے، جبکہ کچھ اقسام موروثی یعنی جینیاتی بھی ہوتی ہیں۔
 
انہوں نے وضاحت کی کہ آئرن ڈیفیشنسی انیمیا عام طور پر ناقص غذا، جسم میں آئرن کی کمی، حمل کے دوران اضافی ضرورت، زیادہ خون بہنے، یا معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے باعث ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں کمزوری، چکر آنا، سانس پھولنا، ناخنوں کا کمزور ہونا اور چہرے کی زردی شامل ہیں۔ اس کا علاج نسبتاً آسان ہے، جس میں آئرن سپلیمنٹس، متوازن غذا (جیسے پالک، گوشت، دالیں، انار) اور بنیادی وجہ کا علاج شامل ہے۔
 
دوسری جانب جینیاتی انیمیا جیسے تھیلیسیمیا یا سِکل سیل انیمیا والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ خون کے سرخ خلیات کی ساخت یا پیداوار میں خرابی کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ جینیاتی انیمیا کا مکمل علاج اکثر ممکن نہیں ہوتا، تاہم باقاعدہ خون کی منتقلی، مخصوص ادویات اور بعض کیسز میں بون میرو ٹرانسپلانٹ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروانا نہایت ضروری ہے تاکہ اس مرض کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
 
پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں اقسام کے انیمیا میں فرق جانچنے کے لیے خون کے خصوصی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جیسے مکمل خون کی جانچ (CBC)، سیرم فیریٹن ٹیسٹ اور ہیموگلوبن الیکٹروفوریسس۔ درست تشخیص کے بغیر خود سے آئرن کا استعمال بعض اوقات نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، خصوصاً جینیاتی انیمیا کے مریضوں میں۔
 
ڈاکٹر ایس۔ کے۔ وحید حسین نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں میں غیر معمولی کمزوری، بار بار بیماری یا نشوونما میں کمی کو نظرانداز نہ کریں اور فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور بروقت طبی معائنہ انیمیا سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔