امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تازہ تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چین نے امریکی ووٹروں کا ڈیٹا حاصل کیا، لیکن اس وقت سی آئی اے (CIA) نے انہیں اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔امریکی میڈیا ادارے کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ چین نے امریکی ووٹر رجسٹریشن سے متعلق معلومات حاصل کیں، لیکن یہ بات ان سے چھپائی گئی۔اس موقع پر امریکی کابینہ کے کئی ارکان، سی آئی اے، ایف بی آئی (FBI)، آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (ODNI) اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جبکہ چند وزراء مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مزید تفصیلات بعد میں سامنے لائی جائیں گی۔
ٹرمپ پہلے بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 2020 کے امریکی انتخابات میں ان کے ساتھ بے ایمانی ہوئی تھی،اور ان سے جیت چھین لی گئی تھی لیکن امریکی عدالتوں اور انتخابی حکام نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کیا کہتی ہے؟
امریکی انٹیلی جنس اداروں کی 2021 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چین نے 2020 کے انتخابات کے نتائج بدلنے کی کوشش نہیں کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو کسی ایک امیدوار کی جیت سے کوئی خاص فائدہ نظر نہیںآیا تھا ، اس لیے اس نے انتخابات میں مداخلت کا خطرہ نہیں اٹھایا۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ چین نے ووٹنگ مشینوں، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نظام میں کوئی مداخلت نہیں کی۔
لیکن اسی رپورٹ میں ایک سائبر انٹیلی جنس افسر نے الگ رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین نے سوشل میڈیا اور سرکاری بیانات کے ذریعے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انتخابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔
2022 کی خفیہ رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
2022 میں منظر عام پر آنے والی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اپریل 2020 میں چینی انٹیلی جنس نے امریکہ کی مختلف ریاستوں کے ووٹر رجسٹریشن ڈیٹا کا تجزیہ کیا تھا تاکہ انتخابات سے پہلے عوامی رائے کا اندازہ لگایا جا سکے۔رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ چین نے یہ معلومات کیسے حاصل کیں، نہ ہی اس میں یہ کہا گیا کہ چین نے ووٹروں کا ریکارڈ تبدیل کیا یا انتخابی عمل میں مداخلت کی۔
روس اور ایران سے متعلق رپورٹ
اسی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا کہ روس نے بائیڈن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جبکہ ایران نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق کسی بھی غیر ملکی ملک نے امریکی ووٹنگ سسٹم، ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ پیپرز یا ووٹوں کی گنتی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی انتخابی نظام میں بڑے پیمانے پر خفیہ مداخلت کرنا انتہائی مشکل ہے،رپورٹ کے مطابق امریکی ادارے انتخابات کی سخت نگرانی کرتے ہیں، اس لیے اگر کوئی ملک مداخلت کرے تو اس کا پتہ چل جانا تقریباً یقینی ہوتا ہے۔