• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ نشانے پر، عراقی تنظیم کا 10 ملین ڈالر انعام کا دعویٰ

ٹرمپ نشانے پر، عراقی تنظیم کا 10 ملین ڈالر انعام کا دعویٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 17, 2026 IST

ٹرمپ نشانے پر، عراقی تنظیم کا 10 ملین ڈالر انعام کا دعویٰ
 
 
عراق میں سرگرم ایک مسلح تنظیم، جو خود کو "اسلامی مزاحمت" کہتی ہے،اس نےدعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے والے شخص کو 10 ملین امریکی ڈالر انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان تنظیم کے منسلک سوشل میڈیا چینلز پر جاری ایک بیان میں کیا گیا۔  اس خبر کی سچائی کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس بیان پر وائٹ ہاؤس یا کسی امریکی سرکاری ادارے نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
 

بیان میں کیا کہا گیا؟

تنظیم نے اپنے بیان کا آغاز اسلامی دعا اور قرآن کی ایک آیت سے کیا۔ اس کے بعد اس نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ "تنظیم نے کہا کہ ٹرمپ نے ماضی میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے خلاف کاروائی کی تھی اور اب بھی وہ ان کے نظریات اور حامیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ٹرمپ کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھے گی۔
 

10 ملین ڈالر انعام کا اعلان

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر 10 ملین امریکی ڈالر انعام رکھا گیا ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے عراقی عوام کا خون بہایا، لوگوں کو بے گھر کیا، مزاحمتی رہنماؤں، بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا-بیان کے آخر میں تنظیم نے ٹرمپ کو مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گے۔
 

قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کون تھے؟

جنوری 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس مارے گئے تھے۔یہ حملہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی تھی۔اس واقعے کے بعد عراق میں ایران کی حمایت یافتہ کئی مسلح تنظیمیں بار بار امریکہ اور امریکی حکام کو دھمکیاں دیتی رہی ہیں اور سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی بات کرتی رہی ہیں۔
 

امریکہ کا ردعمل

 امریکی پولیس یا دیگر سرکاری اداروں نے اس بیان پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس بیان میں کیے گئے دعوے کتنے درست ہیں یا اس تنظیم کے پاس اپنی دھمکی پر عمل کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ امریکی حکام عام طور پر موجودہ یا سابق امریکی صدور کے خلاف دی جانے والی ایسی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور سیکیورٹی ادارے ان معاملات پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔