امریکہ اور اسرائیل جو ایران جنگ کے آغاز میں ایک ساتھ کھڑے تھے، اب ایک دوسرے سے الگ الگ نظر آرہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بینجمن نیتن یاہو کو امریکہ ایران مذاکرات کی مکمل معلومات نہیں مل رہی ہیں۔
کیا امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا؟ کیا یہ دونوں ممالک جنہوں نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اب اپنے اپنے مفادات کی تلاش میں ہیں؟ درحقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اعتماد میں لیے بغیر ایران کے حوالے سے بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔ اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ نیتن یاہو کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر اپنے منصوبہ بند فوجی حملوں کو منسوخ کرنے والے ہیں۔ نیتن یاہو کو بتائے بغیر، ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ دو دن کے اندر معاہدہ ہونے والا ہے اور تہران کے رہنماؤں نے جنگ کو روکنے کے لیے تیار کردہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی نیوز رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو گزشتہ چند دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے لاعلم ہیں۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی ساتھیوں سے رابطہ کرکے معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معاملے کی جانکاری رکھنے والے ایک ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ سے متعلق اپنا ابتدائی بیان جاری کیا تب نیتن یاہو کو پہلے سے کوئی جانکاری نہیں تھی اور وہ حیران رہ گئے۔
درحقیقت آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر اور بین الاقوامی تعلقات کے سرکردہ ماہر ہرش پنت کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مقاصد مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ پر پیٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل تنازعہ ختم کرنے کا دباؤ ہے وہیں نیتن یاہو، کو بھی اس سال انتخابات کا سامنا کرنا ہے وہ جنگ کے آغاز میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دباؤ میں ہیں۔
نیتن چاہو چاہتے ہیں کہ جب تک مقاصد کو حاصل نہیں کرلیا جاتا تب تک جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ان مقاصد کو حاصل نہیں کر لیا جاتا، جب تک کہ ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر دیا جاتا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے اور توقع ہے کہ ہفتے کے آخر تک یورپ میں اس پر دستخط ہو جائیں گے۔ ٹرمپ نے مسلسل تیسرے دن ایران پر حملے کا اعلان کیا تھا لیکن پھر یو ٹرن لے لیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ٹروتھ سوشل پر لکھا، "ایران کے ساتھ بات چیت ایران کی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور اسے منظوری مل گئی ہے۔ اس لیے بطور صدر امریکہ، میں منصوبہ بند حملوں اور بم دھماکوں کو منسوخ کر رہا ہوں"۔
اسرائیل نے کیا کہا؟
اس کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل ،امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے سمجھوتے (ایم او یو) کا فریق نہیں ہے، یعنی وہ اس میں شامل نہیں ہے۔ تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے اس عزم کو سراہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے حتمی معاہدے میں ایران کے افزودہ جوہری مواد کو ہٹانا، یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا، ایران کی میزائل کی پیداوار پر پابندی اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایران کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔