• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدہ، کیا خطے میں طاقت کا توازن بدلے گا؟

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدہ، کیا خطے میں طاقت کا توازن بدلے گا؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 22, 2026 IST

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدہ، کیا خطے میں طاقت کا توازن بدلے گا؟
 
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم سول (پرامن) جوہری معاہدے کی منظوری دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودہ (Enrich) کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً 30 سال تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ اس منصوبے میں امریکی کمپنیاں بھی شامل ہوں گی۔
 

معاہدے میں کیا ہے؟

اس معاہدے کے تحت امریکہ اور سعودی عرب پہلے مشترکہ تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد سعودی عرب میں یورینیم افزودہ کرنے کی سہولت قائم کی جا سکتی ہے، تاکہ ملک جوہری توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھا سکے۔ البتہ اس معاہدے کو نافذ ہونے سے پہلے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ کچھ امریکی ارکان کو خدشہ ہے کہ اس سے مستقبل میں خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
 

کیا سعودی عرب اب ایٹمی بم بنا سکے گا؟

اس معاہدے کا مقصد صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی میں تعاون کرنا ہے، نہ کہ سعودی عرب کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت دینا-سعودی عرب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کا رکن ہے۔ یہ عالمی ادارہ اس بات کی نگرانی کرتا ہے کہ کوئی بھی ملک پرامن جوہری پروگرام کی آڑ میں خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں IAEA کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہوگا، جس کے تحت مزید سخت نگرانی اور معائنہ کیا جاتا ہے۔
 

یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل، ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ضروری ہے، جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
 

سول جوہری معاہدہ کیا ہوتا ہے؟

سول جوہری معاہدہ دو ملکوں کے درمیان ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ اس میں عام طور پر:،جوہری بجلی گھر بنانا ،جوہری ایندھن فراہم کرنا،ری ایکٹر ٹیکنالوجی دینا،سائنسدانوں کی تربیت،جوہری حفاظت کے اصول، تابکار فضلے(Radioactive Waste)  کا محفوظ انتظام،بین الاقوامی نگرانی شامل ہوتی ہے۔
 

وائٹ ہاؤس اور سعودی عرب کا ردعمل

ابھی تک وائٹ ہاؤس اور سعودی حکومت نے اس معاہدے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ اس معاہدے کی خبر سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے دی تھی۔ اس سے پہلے بھی ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔