• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، بھارت سمیت 17 ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، بھارت سمیت 17 ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، بھارت سمیت 17 ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے فیصلے کے تحت بھارت سمیت 17 ممالک سے امریکہ درآمد ہونے والی بعض اشیا پر 10 فیصد اضافی ٹیرف (درآمدی محصول) عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان اشیا کی تیاری میں جبری مشقت (Forced Labour) کے استعمال کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک میں ایسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جن میں مزدوروں سے زبردستی یا غیر انسانی حالات میں کام لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے ان ممالک پر اضافی درآمدی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ جبری مشقت کے خلاف مؤثر قوانین نافذ کریں۔
 
گزشتہ ماہ امریکہ نے تجارتی ایکٹ 1974 کی دفعہ 301 (Section 301) کے تحت مختلف ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز پیش کی تھی۔ اس وقت بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا تھا جن پر 12.5 فیصد ٹیرف لگانے پر غور کیا جا رہا تھا۔ بعد میں امریکہ نے دیکھا کہ بھارت نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد روکنے کے لیے اپنے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اسی وجہ سے بھارت پر مجوزہ 12.5 فیصد کے بجائے 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جن ممالک نے جبری مشقت کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں ان قوانین کو مزید مؤثر طریقے سے نافذ کریں۔ 
 
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے اعلان کیا کہ کل 60 ممالک پر نئے ٹیرف نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے 17 ممالک پر 10 فیصد جبکہ باقی 43 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔جن 17 ممالک پر 10 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا، ان میں بھارت، کینیڈا، برطانیہ، پاکستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن ممالک میں جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا پر پابندی کے مؤثر قوانین موجود نہیں ہیں، انہیں زیادہ یعنی 12.5 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ضروری خام مال اور وہ مصنوعات جو امریکہ میں آسانی سے دستیاب نہیں ہیں یا جن کی درآمد روکنے سے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ان پر یہ نیا ٹیرف نہیں لگایا جائے گا۔
 
امریکی تجارتی نمائندے کے مطابق یہ کاروائی تجارتی ایکٹ 1974 کی دفعہ 301 کے تحت کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی حوصلہ شکنی کرنا اور دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق نئے ٹیرف جمعہ کی رات 12 بج کر ایک منٹ سے نافذ ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ اس عارضی 10 فیصد درآمدی ٹیکس کی مدت ختم ہونے کے فوراً بعد نافذ کیا جا رہا ہے جو پہلے سے عائد تھا۔