امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے "سب سے بڑے حملے" کی تیاری کر چکا تھا، لیکن ایران کی جانب سے بات چیت کی درخواست آنے کے بعد اس کاروائی کو روک دیا گیا۔ ٹرمپ نے یہ بیان لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے دوبارہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور اسی وجہ سے امریکہ نے فوجی کاروائی روک دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ مزید لوگ مارے جائیں، اسی لیے وہ جنگ کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب پہلے کے مقابلے میں بہت کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں۔
وینزویلا کا حوالہ کیوں دیا؟
اپنی تقریر میں ٹرمپ نے وینزویلا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے وینزویلا میں بہت مختصر فوجی کاروائی کی تھی اور اب ایران کے معاملے میں بھی سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ کے بجائے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی جانیں ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
"ہم بڑے حملے کے لیے تیار تھے"
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے سب سے بڑے حملے کی تیاری کر چکا تھا، لیکن ایران نے رابطہ کرکے کاروائی نہ کرنے کی درخواست کی۔ ان کے مطابق بعد میں ایران نے اس بات کی تردید کی، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی بات چیت جاری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر معاہدہ آخری مرحلے میں
ادھر ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے تو جلد مشترکہ بیان جاری کیا جا سکتا ہے۔ ان کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا۔
معاہدے سے کیا فائدہ ہوگا؟
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، اس کے لیے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حتمی منظوری ضروری ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دنیا کے لیے آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ تنازع شروع ہونے کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، حالیہ دنوں میں ان میں کچھ کمی آئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 80 ڈالر فی بیرل رہی، جو تنازع کے عروج کے دوران دیکھی جانے والی قیمت سے کم ہے۔